.

کرونا سے 10 لاکھ افراد کی موت ہول ناک بات ہے : انتونیو گوٹیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سبب دس لاکھ افراد کا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا "ہول ناک" بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مذکورہ مرض کی سفاکیت ظاہر ہوتی ہے۔

اپنے حالیہ بیان میں گوٹیرس نے ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد کو "ہوش اڑا دینے والا" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "مرنے والے کسی کے باپ، کسی کی ماں، کسی کے شوہر ، کسی کی بیوی، کسی کے بہن بھائی اور کسی کے دوست اور ساتھی تھے۔ اس مرض کی بربریت نے دکھوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ سوگ اور خوشی منانا زندگی میں کبھی اس طرح نا ممکن نہ تھا"۔

گوٹیرس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "کرونا وائرس کے پھیلاؤ، ملازمتوں سے محرومی، تعلیم کے تعطل اور ہماری زندگیوں میں اضطراب کا اختتام نظر نہیں آ رہا"۔

انہوں نے واضح کیا کہ ذمے دارانہ قیادت، تعاون اور علم کے ذریعے کرونا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں احتیاطی اقدامات مثلا سماجی فاصلہ اور ماسک لگانا بھی نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق کرونا کی کسی بھی ویکسین کو "مناسب قیمت پر اور تمام لوگوں کے لیے دستیاب ہونا چاہیے"۔

روئٹرز نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ منگل کے روز تک دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وبائی مرض سے فوت ہونے والے افراد کی سرکاری تعداد حقیقی مجموعی تعداد سے کم ہے۔ ادارے نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ مطلوبہ لازمی امور کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں کوویڈ 19 کے سبب اموات کی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ جانے کا نہایت قوی امکان ہے۔

کرونا وائرس کے سبب فوت ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد گذشتہ تین ماہ میں پانچ لاکھ سے دو گنا ہو کر دس لاکھ تک پہنچ گئی۔ اموات کے لحاظ سے پہلے تین ممالک امریکا، برازیل اور بھارت ہیں۔

رواں ماہ ستمبر میں یومیہ اموات کی اوسط تعداد کے مطابق دنیا بھر میں ہر 24 گھنٹوں کے دوران 5400 مزید افراد اس وبائی مرض کے سبب دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ تعداد ہر ایک گھنٹے میں 226 اموات اور ہر ایک سیکنڈ میں 16 اموات بنتی ہے۔

کوویڈ 19 کے سبب واقع ہونے والی اموات میں تقریبا 45% افراد امریکا، برازیل اور بھارت میں فوت ہوئے ہیں۔