.

آرمینیا کا ناگورنو کاراباخ کی خود مختاری سرکاری طور پر تسلیم کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا کا کہنا ہے کہ وہ روس کے زیر نگرانی آذربائیجان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ آرمینیا نے باور کرایا ہے کہ وہ ناگورنو کاراباخ کی خود مختاری سرکاری طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

بدھ کے روز روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمینیا کے وزیر اعظم نکول باشینیان نے کہ اکہ روس کی نگرانی میں باکو حکومت کے ساتھ بات چیت کا خیال قبل از وقت ہے۔ یاد رہے کہ ناگورنو کاراباخ میں خونی جھڑپوں کا چوتھا روز ہے۔

باشینیان کے مطابق شدید لڑائی کے جاری رہتے ہوئے آرمینیا، آذربائیجان اور روس کے درمیان سربراہ اجلاس کی باتیں نامناسب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "مذاکرات کے لیے فضا اور حالات موزوں ہونا چاہئیں"۔

روسی خبر رساں ایجنسیوں نے آرمینیائی وزیر اعظم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا ملک ناگورنو کاراباخ ریجن میں امن فوج بھیجے جانے پر غور نہیں کر رہا ہے۔

اسی دوران آرمینیا کی خبر رساں ایجنسی نے باشینیان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ان کا ملک ناگورنو کاراباخ کے ساتھ ایک سیاسی عسکری اتحاد تشکیل دینے کا سوچ رہا ہے۔

مذکورہ ریجن کے حوالے سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان اتوار کے روز شدید جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

دوسری جانب عالمی سلامتی کونسل نے ناگورنو کاراباخ ریجن کے حوالے سے جھڑپوں پر منگل کی شام اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان جھڑپوں کے سبب آرمینیا اور آذربائیجان کے دریان بھرپور جنگ کے بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان نے منگل کے روز ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے تھے کہ ان میں سے ہر ایک نے براہ راست اپنے سامنے والے کی اراضی کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ دونوں ممالک نے اپنے درمیان امن بات چیت کے انعقاد کے حوالے سے دباؤ کو مسترد کر دیا۔

دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں تنازع کے مزید شدید ہو جانے کا پیش خیمہ ہے۔ واضح رہے کہ روس، امریکا اور دیگر ممالک آرمینیا اور آذربائیجان سے لڑائی روکنے کی ہنگامی اپیلیں کر چکے ہیں۔

ان جھڑپوں کے سبب جنوبی قوقاز کے علاقے میں عدم استحکام کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اس علاقے میں موجود پائپ لائنوں کے ذریعے عالمی منڈی کے لیے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے روسی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے بیان میں بات چیت کے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار دیا۔ آرمینیا کے وزیر اعظم نکول باشینیان اسی ٹی وی چینل سے گفتگو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ لڑائی جاری رہنے کے ساتھ بات چیت کرنا ممکن نہیں۔

ناگورنو کاراباخ آذربائیجان کے اندر واقع ایک متنازع علاقہ ہے۔ اسے آرمینیا سپورٹ کرتا ہے اور آرمینیائی نسل کے لوگ اس کے انتظامی امور چلا رہے ہیں۔ یہ 1990ء کی دہائی میں ایک جنگ کے دورا آذربائیجان سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ تاہم دنیا کی کسی بھی ریاست نے اس کو ایک خود مختار اور آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا ہے۔

آذربائیجان اور مزکورہ ریجن کے درمیان اتوار کے روز سے جاری شدید جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد کے ہلاک ہونے اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کی خبریں ہیں۔