.

بحیرہ روم کے تنازع پر ترکی اور یونان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کریں گے: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکا مشرقی بحیرہ روم میں تیل کی تلاش اور گیس سمیت قدرتی وسائل کی پر ترکی اور یونان میں پیدا ہونے والے تنازع کے حل کے لیے انقرہ اور ایھتننز کے درمیان مذاکرات کی حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور یونان دونوں‌ نیٹو کے رکن ملک ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے بچانا اور مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔

یونان کے دورے کے دوسرے روز یونانی وزیر اعظم کیریکوس میتسوتکیس سے ملاقات کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم یونان اور ترکی جیسے نیٹو کے اتحادی ممالک کے مابین ہونے والی بات چیت کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان امور پر بات چیت دوبارہ شروع کی جائے۔

اس سے قبل پومپیو نے جنوبی یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع سوڈ بے میں امریکی بحری اڈے کا دورہ کیا جس کے بعد انہوں‌ نے یونانی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔

اس دورے کے دوران پومپیو اپنے ایک بیان میں کہا کہ آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری لڑائی روکنے اور متنازع علاقے پر جاری تنازع کے حل کی کوششوں پر صلاح مشورہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بحیرہ روم کے میں ترکی اور یونان کے درمیان جاری تنازع کے فوری حل اور دونوں‌ملکوں کےدرمیان بات چیت کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

پومپیو نے اپنے علاقائی دورے کا آغاز شمالی یونانی شہر تھیسالونیکی سے کیا جہاں انہوں نے اپنے یونانی ہم منصب نیکوس ڈینڈیس سے ملاقات کی اور مشرقی بحیرہ روم میں یونان اور ترکی کے مابین حالیہ تناؤ میں اضافے سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پومپیو نے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اپنے سفارتی اور فوجی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دونوں پڑوسیوں اور نیٹو اتحادیوں کے مابین سمندری سرحدوں اور توانائی کی تلاش کے حقوق کے تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں دونوں رہ نماوں کا کہنا تھا کہ امریکا اور یونان نے خطے میں استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی خاطر دستیاب تمام مناسب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

پومپیو کے دورے کے موقع پر ترکی نے واشنگٹن پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ تنقید حکمران "آق" پارٹی کے ترجمان عمر سیلیک کی طرف سے سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم کے بحران میں امریکی حیثیت اور غیرجانبداری ترک کرنے سے خطے میں امن کو کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔