اسرائیلی موساد کے سربراہ کا دورۂ بحرین ،انٹیلی جنس اورسکیورٹی حکام سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ جوزف (یوسی) کوہن نے بدھ کو بحرین کا دورہ کیا ہے اور منامہ میں اس ننھی خلیجی ریاست کے اعلیٰ سکیورٹی عہدے داروں سے بات چیت کی ہے۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے نے جمعرات کے روز ان کے دورے کی خبر جاری کی ہے۔ مسٹر کوہن نے بحرین کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ عادل بن خلیفہ الفاضل اور اسٹریٹیجک سکیورٹی سروس کے سربراہ شیخ احمد بن عبدالعزیز آل خلیفہ سے ملاقات کی تھی۔

بی این اے کی رپورٹ کے مطابق ’’ طرفین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے اور بحرین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی اہمیت پر زوردیا ہے۔ نیز یہ کہ یہ معاہدہ خطے میں امن واستحکام میں کیا کردار ادا کرے گا اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے کیا کیا مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘

بحرین اور اسرائیل نے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں تاریخی امن معاہدے پر دست خط کیے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بہ نفس نفیس بحرین اور متحدہ عرب امارات سے امن معاہدوں پر دست خط کے لیے امریکا گئے تھے جبکہ ان کے ساتھ اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید اور بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔

نیتن یاہو نے اس معاہدے کے بعد کہا تھا کہ اسرائیل اور بحرین کے درمیان معمول کے تعلقات استوار ہونے کے بعد اب براہِ راست پروازیں چلائی جائیں گی اور دونوں ملکوں کے درمیان بہت جلد فضائی ٹریفک بحال کردی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل کے بحرین اور یو اے ای کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے امن معاہدے طے پائے تھے اور صہیونی ریاست نے کوئی ربع صدی کے بعد کسی عرب ملک سے تعلقات استوار کیے ہیں۔

اب تک اسرائیل کے چار عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار ہوچکے ہیں۔ باقی دوممالک مصر اور اردن ہیں۔ان دونوں ملکوں سے اسرائیل کے بالترتیب 1979ء اور 1994ء میں امن معاہدے طے پائے تھے۔امریکی حکام کے مطابق بعض اور عرب ممالک بھی اسرائیل سے امن معاہدے طے کرنے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں