آذربائیجان کو اسلحہ کیوں برآمد کیا؟ آرمینیاکا احتجاج،اسرائیل سے سفیر کو واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آرمینیا نے اسرائیل کی جانب سے آذربائیجان کو اسلحہ برآمد کرنے پر سخت احتجاج کیا ہے اور تل ابیب میں متعیّن اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان آنا نغدلیان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اسرائیل کا کام کرنے کا طریق کار بالکل ناقابل قبول ہے۔چناں چہ وزارت نے اسرائیل میں متعیّن اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس طلب کرلیا ہے۔‘‘

قبل ازیں انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اسرائیل آذربائیجان کی مسلح افواج کو آرمینیا کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ مہیا کررہا ہے۔حالانکہ آرمینیا نے اسی ماہ تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولا ہے۔

امریکا کے ایک انٹیلی جنس ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ ’’اسرائیل اسلحہ سے لدے طیارے آذر بائیجان کو بھیج رہا ہے۔اس کے دو طیارے آج ہی باکو کے ہوائی اڈے پر اُترے ہیں۔اس کے علاوہ ترکی بھی بلا تعطل ڈرونز بھیج رہا ہے۔‘‘

دریں اثناء آذر بائیجان کے صدر کے خارجہ پالیسی کے مشیر حکمت حاجی ییف کا کہنا ہے کہ باکو اور اسرائیل کے درمیان دفاعی شعبے میں دو طرفہ تعاون کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ناگورنو قراباغ میں حالیہ لڑائی کے دوران میں آذر بائیجان نے اسرائیلی ساختہ ’’کامی کیز ڈرونز‘‘ استعمال کیے ہیں۔

آذربائیجان اور آرمینیا کی مسلح افواج کے درمیان گذشتہ اتوار سے الگ تھلگ علاقے ناگورنو قراباغ کے تنازع پر دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے۔اس میں اب تک بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کررہے ہیں جس کے بعد مستقبل قریب میں اس لڑائی کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

دونوں ملک ایک دوسرے پر غیرملکی جنگجوؤں کو جنگ میں جھونکنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ ترکی اس لڑائی میں آذربائیجان کی کھل کر حمایت کررہا ہے اور اس پر باکو میں شام سے جنگجوؤں کو بھیجنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

دوسری جانب روس پر آرمینیا کی فوجی معاونت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈا بھی قائم ہے۔تاہم ترکی اور روس دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوایل ماکروں نے بدھ کی شب ٹیلی فون پر آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور دونوں ممالک نے فریقین پر فوری جنگ بندی پر زوردیا تھا۔

واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 1990ء کے عشرے سے اس علاقے پر تنازع جاری ہے۔تب ناگورنو قراباغ نے آذر بائیجان کے خلاف جنگ کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن قراباغ کی آزادی کو کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے، حتیٰ کہ اس کو آرمینیا بھی خود مختار علاقہ تسلیم نہیں کرتا ہے۔عالمی برادری اس کو آج بھی آذر بائیجان کا حصہ سمجھتی ہے۔ کوہ قفقاز (کاکیشیا) پر واقع ناگورنو قراباغ کا علاقہ 44 سو مربع کلومیٹر پرپھیلا ہوا ہے۔یہ آرمینیا کی سرحد سے 50 کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کا رقبہ امریکا کی ریاست ڈیلاویر کے قریب قریب برابر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں