ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر بیرون ملک سے ملنے والی امداد کی لوٹ مار کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں عالمی سطح پر غیرتسلیم شدہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر ایک بار پھر بیرون ملک سے ملنے والی امداد کی لوٹ مار کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثیوں کی حکومت کے وزیر برائے پانی وماحولیات نبیل الوزیر پر ان کی جماعت کے لیڈر عبدالمحسن طاووس پر بیرون ملک سے ڈونرز فنڈز اور امدادی رقم میں ہیرا پھیری اور سپریم انسانی حقوق اتھارٹی کو اس سے لاعلم رکھنے کا الزام عاید کیا ہے۔

خیال رہے کہ عبدالمحسن طاووس حوثیوں کی قائم کردہ انسانی حقوق کی سپریم کونسل کے سربراہ ہیں۔ یہ ادارہ ایران کی مدد سے قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد یمن میں بین الاقوامی کردار کو معطل کرنا ہے۔ حوثیوں نے پلاننگ، شاہرات، پانی، داخلہ اور خارجہ شعبوں کی وزارتیں قائم کر رکھی ہیں جنہیں ایران کے سوا کسی اور ملک کی حمایت حاصل نہیں‌ ہے۔

وزیر پانی وماحولیات پر یونیسیف کے امدادی فنڈز کی رقم سے بیش قیمت گاڑیاں خرید کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے محکمہ ماحولیات کے لیے عالمی ادارے 'یونیسیف' کی امدادی رقم سے سال 2019ء کے دوران 6 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم سے 14 بیش قیمت گاڑیاں خریدیں۔

طاووس کے اس الزام پر حوثیوں کی قائم کی گئی انسانی حقوق رابطہ کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یونیسیف کی رقم سے گاڑیوں کی خریداری کی ڈیل کونسل کے علم میں لائے بغیر عمل میں‌ لائی گئی،

طاوس کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے سال 2017ء اور 2018ء کے دوران بیرون ملک سے آئے 15 ملین لیٹر ڈیزل کا غبن کیا۔

فیس بک پر جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نبیل الوزیر پر بیرون ملک سے ملنے والی 1 لاکھ 99 ہزار ڈالر کی رقم کی خورد برد کے قصور وار قرار دیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر ہیضے کی وبا کی روک تھام کے لیے 18 لاکھ ڈالر اور گاڑیوں کی خریداری میں 60 ہزار ڈالر صرف کرنے اور یونیسیف کی طرف سے بچوں‌ کی بہبود اور بحالی کے لیے دی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ حکومت کے علم میں لائے بغیر صرف کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں