روس کا آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان مذاکرات پر زور

کارا باخ میں اجرتی جنگجووں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نےآذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری تنازع کے فوری حل کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو دونوں‌ پڑوسی ملکوں آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کرانے کے لیے تیار ہے۔

ماسکو نے مطالبہ کیا کہ وہ متنازع علاقے کاراباخ میں فوجیوں اور دہشت گردوں کو استعمال نہ کرے۔ ان کا کہنا تا کہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ لیبیا سے جنگجوئں‌ کو کارا باخ منتقل کیا جا رہا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مسلح گروہوں کے شامی اور لیبیا کے جنگجوؤں کو ناگورنو-کاراباخ خطے میں بھیجا جارہا ہے جہاں آذربائیجان کی فوج اور آرمینی نژاد دیگر افراد کے مابین چار دن سے لڑائی جاری ہے۔

روس نے لڑائی میں شامل ممالک سے تنازع میں غیر ملکی دہشت گردوں اور کرائے کے فوجیوں کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
شامی حزب اختلاف کے دو ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ ترکی آذربائیجان کی حمایت کے لیے شامی حزب اختلاف کے جنگجو بھیج رہا ہے تاہم ترکی اور آذربائیجان نے اس کی تردید کی ہے۔

بدھ کے روز روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں لاوروف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماسکو بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اطالوی "فلائٹ ریڈار" ویب سائٹ جو ہوا بازی کے ٹریفک سے باخبر رہنے کی خبریں شائع کرتی ہے نے انکشاف کیا ہے کہ لیبیا سے کچھ پروازیں آذربائیجان باکو کے ہوائی اڈے پر اتری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں