ٹویٹر نے گڑبڑ پیدا کرنے والے 130 مبینہ ایرانی اکاؤنٹس حذف کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سماجی رابطوں کی اہم اور نمایاں ویب سائٹس پر فرضی اکاؤنٹس کی بھرمار کا سلسلہ جاری ہے۔ بالخصوص جب کہ آئندہ ماہ امریکی صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں معروف ویب سائٹ ٹویٹر نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس نے 130 اکاؤنٹس کو حذف کر دیا ہے جن کا تعلق غالبا ایران سے ہے۔ مذکورہ اکاؤنٹس امریکی صدارتی انتخابات کے پہلے مناظرے کے دوران عام مباحثے میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹویٹر کے مطابق ان اکاؤنٹس کے حذف کرنے کی کارروائی امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی جانب سے پیش کی گئی معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔

ٹویٹر کمپنی نے واضح کیا کہ ان اکاؤنٹس کا زیادہ بڑا تعامل نہیں تھا اور یہ عام مباحثے پر اثر انداز نہیں ہو سکے۔ کمپنی کے مطابق تحقیقات مکمل ہوتے ہی ان اکاؤنٹس کے نام اور ان کے مواد کو نشر کیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سماجی رابطے کی کسی نمایاں ویب سائٹ نے ایسے سیکڑوں مشتبہ اکاؤنٹس حذف کرنے کا اعلان کیا جو مخصوص ایجنڈوں پر کام کر رہے تھے۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ فیس بک نے بھی درجنوں چینی اکاؤنٹس حذف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹویٹر بھی ترکی کے زیر انتظام سیکڑوں اکاؤنٹس حذف کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کے روز امریکی صدارتی انتخابات کے سلسلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان پہلا مناظرہ منعقد ہوا تھا۔ اس کے دوران ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف امیدوار جو بائڈن کے درمیان اہانت آمیز امور کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

اعدد و شمار سے متعلق ایک امریکی کمپنی نیلسن کے مطابق منگل کے روز ہونے والے اس مناظرے کو چار سال قبل ہونے والے صدارتی مناظرے کے مقابلے میں بہت کم افراد نے دیکھا۔

ٹرمپ اور جو بائڈن کے مناظرے کو 16 ٹی وی نیٹ ورکس کے ذریعے تقریبا 7.31 کروڑ افراد نے دیکھا جب کہ چار سال قبل 2016ء کے انتخابات کے موقع پر ٹرمپ اور ان کی ڈیموکریٹک حریف امیدوار ہیلری کلنٹن کے بیچ مناظرے کو 8.4 کروڑ افراد نے دیکھا تھا جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ناظرین کی حالیہ تعداد 2016ء میں ریکارڈ کی جانے والی تعداد سے 13% کم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں