.

شامی جنگجوئوں کو آذربائیجان بھیجنے پر ترکی وضاحت پیش کرے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آذربائیجان میں جہادی جنگجوئوں کی بذریعہ ترکی آمد کی وضاحت کرے۔ انہوں نے نیٹو ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے مشکوک اتحادی کے اقدامات سے متعلق سوال اٹھائیں۔

میکروں نے ایک بیان میں کہا کہ "ترکی نے ایک خطرناک حد عبور کی ہے جو ناقابل قبول ہے۔ میں تمام نیٹو ممالک پر زور دیتا ہوں کہ وہ نیٹو کے اتحادی کی سرگرمیوں پر غور کریں۔ فرانس اس موقع پر ترکی سے اس کے اقدام کی وضاحت طلب کر رہا ہے۔"

عمانویل میکروں نے یہ بیان برسلز میں ایک ملاقات کے موقع پر دیا۔ اس ملاقات میں یورپی یونین کی قیادت نے قبرص کی حدود میں ترکی کی جانب سے گیس ڈرلنگ کرنے پر انقرہ حکومت پر پابندیاں لگانے پر اتفاق کیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے بتایا کہ شامی شہر حلب کے ایک جہادی گروپ کے 300 جنگجو ترک شہر گزینتپ سے آذربائیجان میں داخل ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ "یہ جنگجو فرانس کی طرف سے شناخت کر لئے گئے ہیں اور ان کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔" میکروں کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے لئے آنے والے دنوں میں طیب ایردوآن سے فون پر رابطہ کریں گے۔

فرانسیسی صدر نے ترکی کی جانب سے آذربائیجان کی حمایت میں دئیے جانے والے بیانات کو خطرناک اور احمقانہ قرار دیا۔

نگورنے کاراباخ کا علاقہ آذربائیجان کے اندر آرمینائی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک علاقہ ہے جس نے سوویت یونین کے سقوط کے بعد علاحدگی کا اعلان کر دیا تھا ۔ اس کے بعد اس علاقے پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تقریبا 30 ہزار افراد کی جانیں چلی گئی تھی۔

اس علاقے کو آرمینیا سمیت کسی بھی ملک نے علیحدہ ملک تسلیم نہیں کیا ہے اور اس مسئلے کے پر امن تصفیے کی تمام کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی۔