.

سوڈانی حکومت اور باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد میں تاریخی امن معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔

سوڈان کی عبوری حکومت اور باغی گروپوں کے لیڈروں اور نمایندوں نے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں امن معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

جنوبی سوڈان کی مصالحتی ٹیم کے سربراہ توت گتلوآک نے امن معاہدے پر دست خط سے قبل کہا کہ ’’ ہم امن سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں، ہم خوش ہیں اور ہم نے اپنے مشن کو پایہ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔‘‘

چڈ ، قطر ، مصر، افریقی یونین ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ اس امن معاہدے کے ضامن ہیں اور ان کے نمایندوں کے نام بھی ضامن کے طور پرامن معاہدے میں شامل ہیں۔

خرطوم حکومت کی جانب سے سوڈانی پیراملٹری فورس کے کمانڈر محمد حمدان داغلو المعروف ’’ ہمتی‘‘ جبکہ باغی گروپوں پر مشتمل سوڈانی انقلابی محاذ ( ایس آر ایف) اوردوسرے گروپوں کے نمایندوں نے دست خط کیے ہیں۔

ایس آر ایف میں مختلف باغی گروپ شامل ہیں۔وہ دارفر کے علاوہ دو جنوبی ریاستوں بلیو نیل اور جنوبی کردفان سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس امن معاہدے کے تحت مختلف متنازع امور کو طے کیا جائے گا۔ان میں اراضی کی ملکیت ، قومی دولت میں حصے داری اور معاوضہ ، اقتدار میں شرکت اور مہاجرین اور ملک میں دربدر ہونے والے لوگوں کی اپنے آبائی گھروں کو واپسی شامل ہیں۔

اس معاہدے کے تحت ایس آر ایف سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو سرکاری سکیورٹی فورسز میں ضم کردیا جائے گا۔

دارفور سے تعلق رکھنے والے دو بڑے باغی گروپوں نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔اس کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ سوڈان کے شورش زدہ علاقوں میں اب بھی چیلنجز درپیش ہوں گے۔