.

عالمی برادری ایران کو معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے موثر طریقے سے روکے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عالمی برادری سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو عالمی معاہدوں اور جوہری معاہدوے کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کا افزودہ شدوہ یورینیم کی مقدار میں دس گنا اضافہ کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن نہیں بلکہ تہران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے یورینیم افزودہ کررہا ہے۔ ایران کا عالمی توانائی ایجنسی کی مقرر کردہ یورینیم افزودگی کی حدود کو پامال کرنا جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے انسداد کے حوالے سے منعقدہ ورچوئل کانفرنس سے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اجرا کا اصل مقصد عالمی امن وسلامتی کو یقینی بنانا اور امن کوتباہ کرنے والے اسباب کا تدارک کرنا تھا۔ آج ہم اس حوالے سے عالمی دن منا رہے ہیں۔ میں اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں‌ کہ اس نے عالمی امن وسلامتی اور جوہری اسلحہ کے حصول کی روک تھام کے لیے ایک دن کا تعین کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن سب کو ایٹمی ہتھیاروں کے انسانیت کے لیے خطرے اور انھیں پوری دنیا کو لاحق خطرے کے تناطر میں الاقوامی سطح پر عوامی شعور اجاگر کرنے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ ہم اس موقع پر ان ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی ضرورت اور مشترکہ مقصد کے حصول کی طرف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بارے میں سعودی عرب کا عالمی برادری سے مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے سختی سے روکے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کا پابند بنائے۔