.

ایران کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی پرعمل درآمد کے پابند نہیں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں متعین روس کے سفیر لیون جاگاریان نے کہا ہے کہ ماسکو ایران پر اسلحے کی پابندی کی پاسداری نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماسکو نے ایران کو 'ایس -300' دفاعی نظام مہیا کیا ہے۔ اسی طرح تہران کو'ایس 400' فضائی نظام اور میزائل سسٹم کی فراہمی میں‌ کوئی حرج نہیں ہے۔

اتوار کے روز روسی سفیر نے ایران کے اخبار'رسالت ' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران سے تعاون جاری رکھنے پر امریکا کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کا ماسکو اور تہران کے باہمی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

روسی سفیر نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس روس سے اسلحہ خریدنے کی کوئی خاص پیش کش ہے تو ہم 18 اکتوبر کے بعد ایران کی تجاویز پر احتیاط سے عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ روس اور چین نے ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے فیصلے کے خلاف 14 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو امریکی قراردادو ویٹو کردی تھی۔ امریکا نے ایران کے خلاف اسنیپ بیک میکانزم کو متحرک کرنے اعلان کیا تھا۔

ایران پر 8 سالہ ہتھیاروں کی پابندی 2010 میں شروع ہوئی تھی جب سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 1929 منطور کی تھی۔ قرارداد 2231 میں کہا گیا ہے کہ پابندی 18 اکتوبر کو اس شرط پر ختم ہوگی کہ تہران اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے گا۔ تاہم امریکا کا کہنا ہے کہ ایران نے اسلحہ کے حصول کے حوالے سے بین الاقوامی قراردادوں کی پاسداری نہیں کی ہے۔