.

دنیا میں کووِڈ-19 کا شکارافراد کی تعداد کل آبادی کا 10 فی صد ہوسکتی ہے: ڈبلیوایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں شعبہ ایمرجنسی کے سربراہ نے اعدادوشمار کے حوالے سے تخمینہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا بھر میں اب تک ہر دس میں سے ایک شخص کرونا وائرس کا شکار ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر مائیکل ریان نے سوموار کے روز جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے 34 رکنی انتظامی بورڈ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’کووِڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کے اعداد وشمار دیہی اور شہری علاقوں میں مختلف ہوسکتے ہیں،اسی طرح مختلف گروپوں میں صورت حال مختلف ہوسکتی ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ دنیا کی عظیم اکثریت اس وقت کرونا وائرس کے خطرے سے دوچار ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے اس تخمینے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 76 کروڑ ہوسکتی ہے۔دنیا کی کل آبادی سات ارب 60 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ڈبلیو ایچ او اور جان ہوپکنز یونیورسٹی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کووِڈ-19 کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ افراد ہے اور یہ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مذکورہ تخمینے سے کہیں کم ہے۔

تاہم ماہرین ایک عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ بہت سے ممالک کی حکومتیں کووِڈ-19 کے مریضوں کا درست ڈیٹا فراہم نہیں کررہی ہیں اور اصل کیسوں کی تعداد تصدیق شدہ کیسوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ایک روز قبل ہی امریکا کی ایک جامعہ کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں نے اگر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سماجی فاصلے اور اجتماعات پرعاید پابندیوں میں نرمی کی تو 2021ء تک 33 لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ میٹرکس اور ایولیوایشن نے اپنے تحقیقی مطالعہ کی بنیاد پر یہ پیشین گوئی کی ہے۔اس ادارے نے دنیا بھر کے ممالک کے سرکاری ڈیٹا کی بنیاد پر کووِڈ-19 سے آیندہ مہینوں میں ممکنہ ہلاکتوں کا تخمینہ ظاہر کیا ہے اور بعض دوسری پیشین گوئیاں کی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کی 95 فی صد آبادی اسی ہفتے سے چہرے پر ماسک پہننا شروع کردے تو ہلاکتوں میں 18 لاکھ تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔تاہم اگر موجودہ رجحانات اسی طرح جاری رہتے ہیں کہ بعض ممالک نے چہرے پر ماسک پہننے سمیت مختلف قدغنیں عاید کررکھی ہے جبکہ دسیوں ممالک نے ایسی پابندیاں عاید نہیں کی ہیں تو مزید 25 لاکھ تک ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔