.

گھریلو جھگڑے کے دوران بورسن جانسن کے والد نے اپنی بیگم کی ناک توڑ دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی زندگی کے بارے میں برطانوی صحافی ٹام بوور کی کتاب The Gambler رواں ماہ 15 اکتوبر کو منظر عام پر آ رہی ہے۔ کتاب میں ایک واقعے کا انکشاف کیا گیا ہے جس کے مطابق ایک بار شدید نوعیت کے گھریلو جھگڑے کے دوران بورس جانسن کے والد اسٹینلے جانسن نے اپنی اہلیہ شارلوٹ پر تشدد کرتے ہوئے ان کی ناک توڑ ڈالی تھی۔ اس کے سبب شارلوٹ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کی ضرورت پیش آئی جب کہ ان کی ناک سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اتوار کے روز سے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

شارلوٹ کی عمر اس وقت 77 برس ہے۔ کتاب میں ان کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ "میرے شوہر نے میری ناک توڑ دی تھی اور مجھے یہ بات سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میں اسی برتاؤ کی مستحق ہوں"۔ برطانوی اخبار نے اسٹینلے کے رشتہ داروں سے اس واقعے کی بابت معلوم کیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ "ایسا صرف ایک بار ہوا تھا"۔ یہ انیس سو ستر کی دہائی کی بات ہے جب شارلوٹ "نفسیاتی خبط" کے مرض کا شکار تھیں۔ وہ جھگڑے کے دوران اسٹینلے کے اوپر گر پڑیں اور اسٹینلے کے رد عمل میں شارلوٹ کی ناک ٹوٹ گئی۔

کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسٹینلے نے جو اس وقت 80 برس کے ہیں ،،، اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ البتہ بورس جانسن کو اپنے والد کے تشدد کے باعث اپنی والدہ کے انجام پر نہایت دکھ محسوس ہوا تھا۔