.

ترک صدر نے مکمل جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ میں آذربائیجان کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز ایک سرکاری اجلاس کے بعد آر ٹی ٹی ٹیلی ویژن کے ذریعے نشر ہونے والے بیانات میں زور ے کر کہا ہے کہ ترکی آذربائیجان کے ساتھ تھا اور اب بھی کھڑا ہے۔ آرمینیا کے خلاف لڑائی میں انقرہ آئندہ بھی باکو کی حمایت جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا آذربائیجان کے عوام بڑے مصائب سے گذر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکی اپنا حق حاصل کرنے کی کوششوں میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آذربائیجان کی مسلح افواج کی کامیابیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ہم ان فتوحات میں آپ کے ساتھ ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ، پیر کو نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن نے کہا کہ برگ آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو آرمینیائی علیحدگی پسند ناگورنو کاراباخ خطے میں تنازعہ کے حل کے لیے استعمال کریں گے۔

اسٹولٹن برگ کے یہ بیان ترک وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلو سے بات چیت کے بعد جاری کیا۔ کل سوموار کو آرمینیائی علیحدگی پسندوں اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان لڑائی اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی۔ اس جنگ میں اب تک 250 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ نیٹو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے ترکی اپنا زبردست اثرورسوخ استعمال کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں