.

آنے والے دنوں میں ایران پر پابندیوں میں مزید اضافہ ہو گا: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا ایران پر اقتصادی پابندیوں کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو سال قبل ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد تہران پر سابقہ پابندیاں بحال کر دی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایران ورکنگ گروپ کے سربراہ ایلیوٹ ابرامز ایران کے خلاف جاری امریکی اقتصادی مہم جوئی کے ضمن میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

امریکی سفارت کار نے "سی این این" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ پہلے اس شدت کا نہیں تھا مگر ہم ایران پر پابندیاں عائد کرتے رہیں گے۔ آنے والے دنوں میں پابندیوں میں مزید اضافہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے نومبر میں انتخابات کے بعد کون صدر بنے گا اس سے قطع نظر ایرانی ایک نئے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے کیونکہ وہ مزید 4 سال تک پابندیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گذشتہ پابندیوں کی نسبت اب نئی پابندیاں زیادہ سخت اور موثر ثابت ہو رہی ہیں۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کا ایران پر گہرا اثر پڑا ہے۔ تہران میں ان پابندیوں کی وجہ سے تہران میں ایرانی معیشت کے خراب ہونے اور کرنسی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکی ایجنسی "بلومبرگ" نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے جو اسے معاشی طور پر بیرونی دنیا سے تنہا کردیں گی۔

یہ پابندیاں ایک درجن سے زائد بینکوں کو نشانہ بنائیں گی اور ایران کے مالیاتی شعبے کو مکمل طور پر درہم برہم کردیں گی۔