.

امریکی پابندیوں کی دھمکی؛ترک لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے خلاف امریکا کی نئی پابندیوں کے منڈلاتے خطرے اور قفقاز میں جاری نئے تنازع کے بعد لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔

بدھ کے روز کرنسی کی مارکیٹ میں لیرا کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید 7۰87 فی صد گر گئی ہے۔اس سال کے دوران میں اب تک لیرا کی قدر میں 24 فی صد کمی واقع ہوچکی ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی ہےکہ ترکی کے مرکزی بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر سکڑ رہے ہیں،اس کی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جغرافیائی ، سیاسی صورت حال سے بھی ترک معیشت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بلومبرگ نے منگل کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ترکی روس سے خرید کردہ ایس 400 میزائل دفاعی نظام کو ٹیسٹ کرنے کی تیاریوں میں ہے،اس صورت میں امریکا اس کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز کہا تھا کہ یورپی یونین کے اجلاس میں مشرقی بحر متوسط پر حق ملکیت کے دعووں سمیت بعض تنازعات کے حل کے بارے میں فیصلے ناکافی ہیں۔

صدر ایردوآن اور ترک قبرصی لیڈر نے ایک قبرصی ریزارٹ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے سے اتفاق ہے۔یہ ریزارٹ 1974ء میں ترکی کی چڑھائی کے بعد سے ویران پڑا تھا جبکہ دوسری جانب یونان اور یونانی قبرص کی حکومت نے ان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

سرمایہ کار ترکی کے مرکزی بنک کے جاری کردہ پہلے یورو بانڈ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔یہ بانڈ فروری میں جاری کیے گئے تھے، ان کی فروخت سے ترکی کے محکمہ خزانہ کو ڈھائی ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ڈیٹا کے مطابق یورو بانڈ 6۰375 کے کوپن ریٹ کی شرح سے 2025ء میں امیچور ہوں گے۔

ترکی نے حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اس سال اپنی مالیاتی مارکیٹوں میں اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود منگل کے روز ڈھائی ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈ پانچ سال کی مدت کے لیے فروخت کیے ہیں۔ان پر خریداروں کو 6۰4 فی صد منافع حاصل ہوگا۔

ترک لیرا ڈالر کے مقابلے میں مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔اس کی قیمت میں گذشتہ دو ایک سال میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور گذشتہ سوموار کو اس کی قدر میں 7۰7 فی صد ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی۔اس کے علاوہ مغربی سرمایہ کار ترکی سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ترک پارلیمان کے سابق رکن ایقان اردمیر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ترکی کو اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کا سامنا ہے،ترک بانڈز اور ایکویٹیز سے مغربی سرمائے کے انخلا نے مسائل کو دوچند کردیا ہے۔‘‘

مگر صدر ایردوآن غیرملکی اداکاروں کو ترکی کی ابتر معیشت کا ذمے دار قراردیتے ہیں۔انھوں نے مئی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ غیرملکی سازشوں کے ذریعے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ترک حکومت کے مخالفین وزیر خزانہ اور صدر ایردوان کے داماد بیرات البیرق کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

طیب ایردوآن کے بعض ناقدین ترک معیشت کی زبوں حالی کا ایک اور بھی سبب بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ترکی کی اندرونی صورت حال کو بہتر بنانے کے بجائے دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کررہے ہیں۔ وہ شام اور لیبیا کے بعد اب آذر بائیجان میں ترکی کی فوجی مداخلت کا حوالہ دیتے ہیں جہاں ترکی کے عسکری اور مالی وسائل کو جھونکا جا رہا ہے۔