.

علاقائی تنازعات میں ترکی کی مداخلت باعث تشویش ہے: یورپی پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی پارلیمنٹ نے خبر دار کیا ہے کہ خطے میں موجود تنازعات میں ترکی کا کردار باعث تشویش ہے۔ یورپی پارلیمنٹ‌ کا کہنا ہے کہ ترکی شام ،لیبیا، عراق میں مداخلت کے بعد اب آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان جاری لڑائی میں بھی کود پڑا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ‌ کےڈپٹی اسپیکر فیبیو ماسیمو کاسٹالڈو نے العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے ناگورنو کارا باخ‌ کے علاقے میں جاری لڑائی میں ترکی کی مداخلت باعث تشویش ہے۔ ترکی کو دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان لڑائی بھڑکانے کے بجائے جنگ بندی کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں‌ نے کہا کہ قفقاز کے علاقوں میں ترکی کی فوجی مداخلت خطرناک ہے۔ ترکی کی فوجی مداخلت سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری لڑائی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔

انہوں نے علاقائی تنازعات میں ترکی کے کردار کے بارے میں یوروپی پارلیمنٹ کی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انقرہ بات چیت کے پرامن ایجنڈے پر عمل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ترکی بحیرہ روم میں اپنی جارحانہ پالیسی کو روک دے۔ یورپی پارلیمنٹ کے عہدیدار کے بیان سے کچھ دیر قبل ترک وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلو کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے آذر بائیجان کی بھرپور مدد کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

منگل کے روز ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اس لڑائی میں آذر بائیجان حق پر ہے اور ہم باکو کا ساتھ دیں گے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس جنگ میں ترکی پر آذر بائیجان کو شام سے ہزاروں کی تعداد میں اجرتی جنگجو فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے تاہم ترکی اور آذربائیجان حکومتیں غیرملکی جنگجووں کے الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔