.

نیٹو کے تمام رکن ممالک ایک ساتھ افغانستان سے نکلیں گے:اسٹولٹن برگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسمس تک افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان کے بعد 'نیٹو' کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کی کہ نیٹو کے تمام رکن افغانستان سے انخلا کے وقت کے بارے میں مشاورت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے تمام ممالک ایک ساتھ ہی افغانستان سے فوجیں نکالیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں انکشاف کہ وہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی واپسی پر عمل درآمد کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال تمام امریکی فوجی افغانستا سے نکل آئیں گے اور وہ کرسمس اپنے خاندان کے ساتھ ہی گذاریں گے۔

جمہوریہ شمالی مقدونیہ کی حکومت کے سربراہ زوران زائف کے ساتھ ایک میڈیا بریفنگ میں اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ہم سب نے مل کر افغانستان جانے کا فیصلہ کیا اور ہم مل کر مستقبل میں فوجیوں کی ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ ہم سب کو کرنا ہے کہ ہمیں افغانستان کب اور کیسے خالی کرنا ہوگا۔

امریکا نے میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے نیٹو کی مدد سے فوج افغانستان میں داخل کی تھی۔

نیٹو نے 2014 میں افغانستان میں اپنی جنگی کارروائیوں کا خاتمہ کیا تھا۔ اس کے بعد نیٹو نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کر دی تھی۔ تاہم اب بھی افغانستان میں 12 ہزار نیٹو فوجی موجود ہیں جو مقامی فورسز کی تربیت کی غرض سے وہاں تعینات ہیں۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو اتحاد اس وقت افغانستان سے نکل جائے گا جب اسے یقین ہوجائے گا کہ افغانستان اب محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اسے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کا کوئی خطرہ نہیں رہا ہے۔