.

روس : گورنرکی گرفتاری کے خلاف احتجاج؛پولیس کا کریک ڈاؤن،25 مظاہرین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے دور دراز مشرقی علاقے میں پولیس نے ایک مقامی گورنر کی حراست کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور ہفتے کے روز احتجاج کی پاداش میں 25 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

روسی مظاہرین دارالحکومت ماسکو سے چھے ہزار سے زیادہ کلومیٹر دور واقع شہر خبروفسکی میں سابق گورنر سرگئی فرگل کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ ہفتے کے روز ان کا یہ مسلسل بانواں احتجاجی مظاہرہ تھا۔

خبروفسکی شہر چین کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور اس کی آبادی کم وبیش چھے لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔اس شہر میں گذشتہ تین ساڑھے تین ماہ سے مسلسل احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اس کو ماسکو کی مرکزی حکومت کے خلاف ایک غیرمعمولی احتجاجی تحریک قرار دیا جارہا ہے۔

سرگئی فرگل 2018ء میں شہر کے گورنر منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے تب حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے گورنر کو شکست سے دوچار کیا تھا۔

روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے شہر میں ایک لان میں خیمے گاڑ دیے تھے اور وہ سابق گورنر کی حمایت میں گانے بجا رہے تھے۔اس دوران میں پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا۔شہر کی کونسل کے ترجمان رسلان سوکولوف کے مطابق پولیس نے دو صحافیوں اور ایک مقامی سیاسی لیڈر سمیت 25 مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان میں 20 مرد اور پانچ عورتیں ہیں۔

ریا نووستی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی ہیں۔ اس کے تشدد سے ایک شخص بے ہوش ہوگیا تھا جبکہ ایک عورت حالت غیر ہونے کے بعد زمین پر گر گئی تھی۔

روسی حزب اختلاف کی ایک ویب سائٹ کے مطابق مظاہرین کو اب نقضِ امن کے الزام میں فوجداری مقدمے کا سامنا ہوسکتا ہے۔تاہم پولیس نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سابق گورنر فرگل کے حامی جولائی سے مسلسل ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔مسٹر فرگل پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں ۔انھیں کوئی ایک عشرہ قبل دو افراد کے قتل کا حکم دینے اور ایک کے قتل کی کوشش کے شُبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ان پر ایک گینگ کا لیڈر ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔