.

یو اے ای: کووِڈ-19 کے 1129 نئے کیسوں کی تشخیص،ایک مریض چل بسا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 1129 نئے کیسوں کا اندراج کیا گیا ہے۔تین اکتوبر کے بعد کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ اس مہلک وائرس کا شکار ایک مریض چل بسا ہے۔

یو اے ای کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 136430 نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور ان میں سے مذکورہ کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ حالیہ ایام میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے 1070 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای میں پانچ اکتوبر کے بعد سے روزانہ کووِڈ-19 کے ایک ہزار سے زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں۔ تین اکتوبر کو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ 1231 نئے کیسوں کا اندراج کیا گیا تھا۔

ملک میں گذشتہ منگل کے روز اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والےافراد کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہوگئی تھی۔ان میں سے نوّے ہزار سے زیادہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔اس لیے اس وقت ملک میں کل فعال کیسوں کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

یو اے ای کی قومی ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گذشتہ سوموار کو سات معائنہ ٹیموں کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ان میں سے ہر ایک ٹیم ملک میں شامل سات امارتوں میں کووِڈ-19 سے بچنے کے لیے نافذ کردہ حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔

اتھارٹی نے شعبہ صحت سے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے مہم برپا کرنے کی تیاری کرے۔اس سے پہلے گذشتہ ہفتے محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انفلوئنزا کی ویکسین لگوائیں تاکہ کووِڈ-19 کے مریضوں کی تعداد نہ بڑھے اور مراکزِ صحت اور طبی عملہ پر بوجھ میں بھی اضافہ نہ ہو۔

اماراتی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمرالحمادی کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا سے بعض لوگوں میں معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن ضعیف العمر افراد اور دائمی مریضوں میں شدید ردعمل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’نزلے کی ویکسین کروناوائرس سے تحفظ مہیا نہیں کرتی ہے،اس لیے لوگوں کو سماجی میل جول میں مقررہ تجویزی فاصلہ اختیار کرنا چاہیے، چہرے پر ماسک پہننا چاہیے اور دوسری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔‘‘