امریکا اور چین کی محاذ آرائی سے دنیا عالمی جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی ہے: کسنجر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے متنبہ کیا کہ امریکا اور چین کو محاذ آرائی کی حدیں طے کرنی چاہئیں ورنہ دنیا خود پہلی جنگ عظیم کی طرح ایک اور عالمی جنگ کا سامنا کرسکتی ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں 97 سالہ کسنجر نے نیویارک کے اقتصادی کلب کے زیر اہتمام ورچوئل مباحثے کے سیشن کے دوران کہا کہ امریکا اور چین جو اس وقت نئی سرد جنگ سے گذر رہے ہیں کو تصادم کی حدود کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان جاری تنازعات کےحل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں ورنہ پوری دنیا اس محاذ آرائی سے عدم استحکام کا شکار ہوسکتی ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ مکمل طور پر ناممکن ہے لیکن اگر یہ مکمل طور پر ناممکن ہے تو ہم خود کو پہلی جنگ عظیم کی طرح کی صورتحال میں پائیں گے۔

کسنجر کا خیال تھا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین کشمکش نئی ٹیکنالوجی کے ابھرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جس نے جیو پولیٹیکل منظر کو تبدیل کردیا۔

سابق امریکی وزیرکا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی حکومت حالات کی نزاکت کا ادراک کرے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اس تبدیلی میں امریکا کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ آج کے دور میں ایک ہی وقت میں کوئی بھی ملک اپنے اسٹرٹیجک اور معاشی تسلط کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔

ہنری کسنجر نے سنہ 2019 میں کہا تھا کہ امریکا اور چین کے مابین تنازع "سنگین نتائج" پیدا کر سکتا ہے جوعالمی جنگوں کے نتائج سے بھی بدتر ہوگا۔" اس سے بچنے کے لئے انہوں نے دونوں ممالک کو اپنے اختلافات حل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں