ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحِی کووِڈ-19 کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر صالحِی کووِڈ-19 کی وَبا کا شکار ہوگئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ علی اکبر صالحِی کا کرونا وائرس کا تین اکتوبر کو ٹیسٹ کیا گیا تھا اور اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ایرنا جوہری ادارے کے پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’علی اکبر اب بہتری محسوس کررہے ہیں۔وہ اپنے گھرمیں الگ تھلگ قرنطین میں رہ رہے ہیں اور وہیں سے دفتری امور نمٹا رہے ہیں۔‘‘

قبل ازیں ہفتے کے روز ایران کے نائب صدر اور منصوبہ بندی اور بجٹ تنظیم کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دی تھی کہ ان کا کرونا وائرس کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں فروری میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ عہدے دار اور پارلیمان کے ارکان کووِڈ-19 کا شکار ہوکر موت کے مُنھ میں جا چکے ہیں۔

ایران کی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ہفتے تک ملک میں اس مہلک وائرس سے 28200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 496200 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے گذشتہ روز یہ اعلان کیا تھا کہ دارالحکومت تہران میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے مرتکبین پر اب جرمانے عاید کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت میں کووِڈ-19 کے حوالے سے صورت حال سب سے ابتر بتائی جاتی ہے۔صوبائی حکام نے تہران میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں کرونا وائرس کے کیسوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بعض ایرانی عہدے داروں کے بہ قول حکومت نے ملک میں چین سے آنے والے اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد متاثرین کی حقیقی تعداد چھپاتی رہی ہے اور اس نے صرف پانچ فی صد کیسوں کی تفصیل جاری کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں