تیس برس سے علاقائی ورثے کی نادر اشیاء محفوظ کرنے والی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی خاتون " اُم یحیی" کا تعلق مملکت کے صوبے جازان کے ضلع ہروب سے ہے۔ وہ گذشتہ تیس برسوں سے نوادرات، باورچی خانے کے لوازمات اور اپنے ضلع کی خواتین کے علاقائی ورثے سے متعلق اشیاء جمع کر رہی ہیں۔ ان میں وہ کپڑے اور بناؤ سنگھار کی چیزیں شامل ہیں جو پرانے دور کی خواتین استمعال میں لایا کرتی تھیں۔

ہروب میوزیم کی مالک ام یحیی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "میں نے تیس برس قبل تاریخی ورثے سے متعلق اشیاء کو اپنے گھر کے اندر جمع کرنا شروع کیا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے ایک کمرہ تیار کر لیا اور چھ برس سے اس نادر ورثے کو مذکورہ کمرے میں ہی سجا لیا ہے"۔

ام یحیی کے مطابق میوزیم کا خیال انہیں گھریلو خواتین کی جانب سے ان روایتی اشیاء کو ترک کردینے کے بعد آیا جو کھانے کی چیزیں محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوا کرتی تھیں۔ اسی طرح دھونی اور عطور وغیرہ بھی. یہ اشیاء کھانے کی چیزوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتی تھیں"۔

ام یحیی نے مزید بتایا کہ "میں دباغی (جانوروں کی کھالوں کو چمڑے میں تبدیل کرنے کا عمل) بھی انجام دیتی ہوں۔ اس عمل کو مکمل کرنے میں ایک سے دو ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے نمک اور ایک مقامی پودے سے حاصل عرق استعمال کیا جاتا ہے۔ لیموں سے ملتے جلتے اس عرق کو 'الحذق' کہا جاتا ہے"۔

ام یحیی نے واضح کیا کہ ان کا علاقائی ورثے سے متعلق نادر اشیاء محفوظ کرنے کا مقصد موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ان اشیاء سے متعارف کرانا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میوزیم کا دورہ کرنے والوں میں غیر ملکی سیاح بھی ہوتے ہیں۔ ام یحیی کہتی ہیں کہ "میری آرزو ہے کہ یہ میوزیم اپنے موجودہ حجم سے بڑا ہو جائے بالخصوص جب دورہ کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تو متعدد لوگوں کو اپنی باری آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے تا کہ جگہ ہونے پر وہ اندر آ کر ان نادر اشیاء کو دیکھ سکیں۔ وسیع جگہ کا انتظام ہونے پر میں انٹرمیڈیٹ یا یونیورسٹی کی سطح پر لڑکیوں کو دباغی اور اس نوعیت کے تاریخی ورثے کے میوزیم تیار کرنے کی تربیت دے سکتی ہوں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں