روس اور مصر کی بحیرہ اسود میں مشترکہ مشقوں کا کس کے لیے کیا پیغام ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ چینل نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مصری بحریہ سے تعلق رکھنے والے فوجی یونٹ روس کے ساتھ بحیرہ اسود میں اپنی نوعیت کی پہلی فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔

یہ مشقیں خطے کی بحری فوج کی سب سے بڑی مشقوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔ ان میں متعدد جنگی مشن شامل ہیں اور اس کا ایک مقصد اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری فوجی یونٹ بحیرہ روم میں سفر کرتے ہوئے باسفورس اور بحرمرمرہ عبور کر کے روس کے ساتھ فوجی مشقوں میں شامل ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یہ جاننے کے لیے کہ ان مشقوں کا کس کے لیے کیا پیغام ہوسکتا ہے؟ مصر کے فوجی اور اسٹریٹجک ماہر اور مصری پارلیمنٹ کے ممبر میجر جنرل حمدی بخیت سے بات کی۔

بخیت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا یہ مشقیں قابل فہم اور واضح پیغام ہے کہ مصر اور روس کے مابین تعلقات فوجی اور اسٹریٹجک دونوں لحاظ سے اعلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ کہ مصری فوجی صلاحیتیں بڑی، مضبوط ہیں اور مصری فوج عدم استحکام کی کوششوں کو ناکام بنانے میں سرحدوں سے باہر دوسرے ممالک کی بھی مدد کر سکتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مصر اور روس کے مابین مشترکہ مشقیں آج نہیں ہو رہیں۔ مصر-روس کی بری افواج کی مشقیں سنہ 2017ء سے ہو رہی ہیں۔

تاہم میجر جنرل بخیت نے کہا کہ مصر کے بحری بیڑے کے بحیرہ اسود میں یہ مشقیں انجام دینے کے اقدام کو پہلی بار ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مشقیں خطے میں ترکی کو بھی ایک مضبوط پیغام دینا ہے کہ ماسکو اور قاہرہ کے درمیان بڑھتے فوجی تعلقات کے پیچھے ترکی کے خطے میں مداخلت پر مبنی اقدامات بھی ہوسکتے ہیں۔

مصر ان مشقوں سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر ترکی لیبیا میں اپنی تخریب کاری اور بحیرہ روم میں مداخلت کرے گا تو ترکی اور روس دونوں‌ مل کر اسے روکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں