.

پاپائے روم پوپ فرانسیس کے چار سوئس محافظ کووِڈ-19 کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کے ذاتی محافظوں پر مشتمل سوئس گارڈز کے چار ارکان کا کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

ویٹی کن کے ترجمان میٹیو برونی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ سوئس دستے کے ان چاروں محافظوں میں کووِڈ-19 کی علامات ظاہر ہورہی ہیں اور اس وقت وہ قرنطین میں ہیں۔‘‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’’اس وقت تمام محافظ ، خواہ وہ حاضر سروس ہیں یا نہیں،حفاظتی احتیاطی تدابیر کے تحت اندر اور باہر چہروں پر ماسک پہن کررکھیں گے۔‘‘

ویٹی کن کا یہ بھی کہنا ہے کہ 83 سالہ پوپ فرانسیس کی کرونا وائرس سے بچاؤ اور اس سے تحفظ مہیا کرنے کے لیے مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پوپ جولیئس دوم نے اپنے ذاتی تحفظ کے لیے 1506ء میں سوئس گارڈز کے نام سے مختصر فوجی دستہ تشکیل دیا تھا۔اس وقت ان کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔ویٹی کن میں وہ اپنی منفرد زرد ، سرخ اور نیلے رنگوں پر مشتمل وردی کی وجہ سے سیاحوں مرکزِ نگاہ ہوتے ہیں۔ان کے پاس کلہاڑے کی طرز کا ہتھیار ہوتا ہے۔ وہ فولادی ہیلمٹ پہنتے ہیں اور اس کے اوپر شتر مرغ کا بڑا سا پر لگا ہوتا ہے۔

صدیوں سے جاری روایت کے مطابق سوئس گارڈز کی عمر19 سے 30 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔وہ کم سے کم 1۰74 میٹر لمبے ہوں۔وہ عیسائیوں کے رومن کیتھولک عقیدے پرعمل پیرا ہوں،سوئس ہوں اور غیر شادی شدہ ہوں۔

سوئس گارڈز کے موجودہ پاپائے روم پوپ فرانسیس سے غیر روایتی اورذاتی قسم کے تعلقات استوار ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پیش رو مذہبی پیشواؤں کے مقابلے میں پاپائیت کے سخت پروٹوکول کے عادی نہیں ہیں۔