.

کرونا وائرس: یو اے ای میں روسی ساختہ سپوتنک ویکسین کی دوسری انسانی آزمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسین کی متحدہ عرب امارات میں انسانوں پر دوسری آزمائش کی جارہی ہے۔سپوتنک پنجم (وی) کا پہلا انسانی ٹرائل بیلارس میں کیا گیا ہے۔

کریملن نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سپوتنک پنجم کی دوسری انسانی آزمائش کے نومبر کے آخر میں نتائج متوقع ہیں۔

روسی حکومت نے اگست میں اس کی ملک میں استعمال کی منظوری دی تھی۔اس وقت اس کی ماسکو میں چالیس ہزار رضاکاروں پر آزمائش کی جارہی ہے۔یو اے ای کی وزارت صحت نے ملک میں اس کے ٹرائل کی منظوری دی ہے۔اس عمل کو مقامی لیبارٹری ’پیورہیلتھ ‘عملی جامہ پہنائے گی جبکہ روس کا خود مختار دولت فنڈ بیرون ملک کرونا وائرس کی اس ویکسین کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار ہے۔

روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیرل دمتریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یو اے ای میں ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا روس اور دوسرے ممالک میں ٹرائل کے نتائج سے موازنہ کیا جائے گا۔‘‘

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ یواے ای میں کتنے افراد پر اس ویکسین کو آزمایا جائے گا۔دوسری جانب امارات کے وزیر صحت عبدالرحمان بن محمد الاویس کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں متنوع آبادی رہ رہی ہے اور دو سو سے زیادہ اقوام کے افراد مقیم ہیں،اس لیے یہاں ویکسین کا آزمائشی تجربہ سود مند رہے گا۔‘‘

بھارتی حکام نے اس ویکسین کی ملک میں آزمائش کی منظوری نہیں دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی پہلے روس میں انسانی آزمائش کے نتائج مہیا کیے جائیں۔روس مستقبل قریب میں اس کی وینزویلا میں انسانی آزمائش کرنا چاہتا ہے۔

روس نے کووِڈ-19 کے علاج کے لیے تیار کردہ اس ویکسین کی 11 اگست کو منظوری دی تھی۔ روسی صدر ولادی میر پوتین نے خود اس ویکسین کی منظوری کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’روس یہ مہم سر کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ویکسین کی تیاری روس کی سائنسی مہارت کا بھی ثبوت ہے۔‘‘

انھوں نے سوموار کو ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے فون پربات چیت کی ہے اور ان سے یو اے ای میں ویکسین کے ٹرائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

روس کی تیار کردہ اس ویکسین کی جون میں انسانوں پر آزمائش کی گئی تھی۔اس کے بعد اس کی کووِڈ-19 کے علاج میں مؤثرہونے کی جانچ کے لیے مختلف مراحل میں کلینکی آزمائش کی گئی ہے۔کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے یہ ویکسین ماسکو گمالیا انسٹی ٹیوٹ نے تیار کی ہے۔