.

سعودی عرب: جی 20 بین المذاہب ورچوئل فورم میں مسلم ، یہود اور مسیحی لیڈروں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے زیرصدارت منگل کے روز جی 20 کے عالمی بین المذاہب ورچوئل فورم کا آغاز ہوگیا ہے۔اس میں مسلم علماء ، یہودی ربی ، عیسائی پادری اور دوسرے مذاہب کے مذہبی زعماء شرکت کررہے ہیں۔

سعودی عرب اس سال گروپ 20 کے صدر ملک کی حیثیت سے اس پانچ روزہ آن لائن فورم کی میزبانی کررہا ہے۔سعودی عرب کے زیر اہتمام چلنے والا بین الاقوامی ڈائیلاگ مرکز اس فورم کا منتظم ہے۔

اس مرکز کے سربراہ فیصل بن معمر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس پروگرام کا مقصد مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تعلق اور شراکت داری کو بڑھانا اور اس کو مضبوط بنانا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم مذاہب کے درمیان ، مسلمانوں ، عیسائیوں ، یہود ، بدھ متوں اور ہندوؤں کے درمیان تعلق داری کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔اس مکالمے کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے اور نہ اس کی کوئی سیاسی گفتگوؤں یا مذاکرات کے ضمن میں کوئی سیاسی سمت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بین المذاہب فورموں کے انعقاد سے عوام اور ملکوں کے درمیان تعلقات میں حائل خلیج کو پاٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

فیصل بن معمر نے مزید کہا کہ ’’ اگر اس کو درست اسباب کے لیے استعمال کیا جائے تو مذہبی لیڈروں یا مذہبی جماعتوں کے نقطہ نظر کی شمولیت سے دنیا میں کسی بھی امن عمل کو آگےبڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘

پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ فورم سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقد ہونا تھا لیکن اب کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر جی 20 کے دوسرے اعلیٰ اجلاسوں کی طرح یہ فورم بھی آن لائن منعقد کیا جارہا ہے۔

بین المذاہب فورم کے افتتاحی اجلاس کے مقررین میں سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ،اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین ، مفتیِ اعظم مصر ، قسطنطنیہ۔نیو روم کے آرچ بشپ اور یورپی ربیوں کی کانفرنس کے صدر اور اقوام متحدہ کے نمایندے شامل تھے۔