.

سعودی عرب: ڈھائی لاکھ تک مقامی عازمین کو 18اکتوبر سےعمرے کی اجازت

کرونا وائرس کی وَبا سے بچنے کے لیے روزانہ صرف 6 ہزار تک عازمین عمرہ کرسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے 18 اکتوبر سے ڈھائی لاکھ تک عازمین کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ تمام عازمین سعودی شہری یا مملکت میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن ہوں گے۔

سعودی عرب کی قومی کمیٹی برائے حج و عمرہ کے رکن ہانی العمیری نے منگل کے روز عمرے سے متعلق اس نئی پالیسی اور دوسری تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے قبل ازیں سوموار کو صحافیوں سے گفتگومیں بتایا تھا کہ عازمین عمرہ اور دوسرے عبادت گزاروں کو مدینہ منورہ میں مسجدالنبوی الشریف اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جانے کی اجازت ہوگی۔نیز مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں چھے لاکھ سے زیادہ افراد کو عبادت وریاضت کے لیے اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔

عازمین کو مسجد الحرام میں عمرے کی ادائی اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے اجازت نامے کے حصول کی غرض سے وزارت حج وعمرہ کی ایپلی کیشن’’اعتمرنا‘‘میں لاگ اِن ہوکر اپنے نام کا اندراج کرانا ہوگا۔

سعودی حکومت نے اب تک صرف اپنے شہریوں اور مملکت میں مقیم تارک وطن مکینوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں الحرمین الشریفین میں جانے کی اجازت دی ہے۔تاہم ہانی العمیری نے وزارت حج وعمرہ کے ایک سابقہ اعلان کی تصدیق کی ہے کہ غیرملکی عازمین عمرہ کو یکم نومبر سے سعودی عرب میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ جن ممالک کے شہریوں کو عمرے کی غرض سے سعودی عرب میں داخلے کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے،حکام ان ملکوں کے ناموں کا بہت جلد اعلان کریں گے۔

سعودی حکومت عازمین کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے بتدریج عمرہ ادا کرنے کی اجازت دے رہی ہے اور روزانہ لاکھوں کے بجائے ہزاروں عازمین کو سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ مسجد الحرام میں داخلے کے اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں۔

سعودی حکام نے پہلے مرحلے کے تحت صرف 6000تک عازمین کو روزانہ عمرے کی غرض سے مسجد الحرام میں آنے کی اجازت دی ہے۔انھیں مزید چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک گروپ پر تین گھنٹے میں عمرے کے تمام مناسک طوافِ کعبہ اور سعی مکمل کرنے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔تاہم عازمین کو کعبۃ اللہ کو چھونے اور حجرِاسود کو عملی بوسہ دینے کی اجازت نہیں۔ وہ ہاتھوں کو اشارے سے یہ عمل کرسکتے ہیں۔

مسجد الحرام کو روزانہ دس مرتبہ مصفیٰ کیا جارہا ہے اور عازمین میں آبِ زمزم بوتلوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔انھیں مسجد الحرام میں جگہ جگہ نصب ٹونٹیوں یا کولروں سے براہِ راست آب زمزم لینے کی اجازت نہیں۔

حکومت نے حرمِ مکی کے احاطے میں مختلف مقامات پر طبی ٹیمیں متعیّن کی ہیں۔عازمین میں کرونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر ہونے یا کسی کی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک الگ کمرا مختص کیا گیا ہے اور ایسے کسی مریض کو الگ تھلگ رکھنے کے لیے بھی کمرا مختص کردیا گیا ہے۔