.

ترکی کے مؤقف میں تبدیلی سے آذربائیجان فوجی کارروائی روک سکتا ہے:آرمینیا

ترکی کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما ہونے تک آذربائیجان ناگورنوقراباغ میں لڑائی بند نہیں کرے گا: وزیراعظم پیشنیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشنیان نے کہا ہے کہ ترکی کے ناگورنو قراباغ کے بارے میں مؤقف میں تبدیلی سے آذر بائیجان وہاں اپنی فوجی کارروائی روک سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بات برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے منگل کے روزخصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا:’’ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ ترکی کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما ہونے تک آذربائیجان لڑائی بند نہیں کرے گا۔‘‘

گذشتہ ہفتے کے روز متحارب فریقوں نے ماسکو میں روس کی ثالثی میں ناگورنو قراباغ میں جاری لڑائی روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس اعلانِ جنگ بندی کے بعد آرمینیائی وزیراعظم کی یہ پہلی گفتگو ہے لیکن اس متنازع علاقے میں متحارب فورسز کے درمیان بدستور لڑائی جاری ہے اور وہ ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہے ہیں۔

ترکی اس لڑائی میں آذر بائیجان کی بھرپور حمایت کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ناگورنو قراباغ کا کنٹرول آذربائیجان کے حوالے کیا جانا چاہیے جبکہ آرمینیا اس متنازع علاقے کی آرمینیائی نسل پر مشتمل انتظامیہ کی حمایت کررہا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس کو اس تنازع کے بارے میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پر بات چیت میں کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ آرمینیا اس کا مخالف ہے۔

نیکول پیشنیان نے آرمینیا کے دارالحکومت یروان میں اپنے سرکاری دفتر میں خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں ترکی پر جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے جنوبی قفقاز کے خطے تک رسائی چاہتا ہے۔

دوسری جانب آذر بائیجان کا کہنا ہے کہ وہ ماسکو میں طے شدہ انسانی بنیاد پر جنگ بندی، قیدیوں اورلڑائی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں اور شہریوں کی لاشوں کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔اس نے آرمینیا کی مسلح افواج پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے جبکہ یروان نے اس کی تردید کی ہے۔

آرمینیائی وزیراعظم نے ترکی پر آذربائیجان کو جنگ بندی کی پاسداری نہ کرنے کی ہلا شیری دینے کا الزام عاید کیا اور کہا ہے کہ ’’ ترکی بحر متوسط میں یونان اور قبرص کے خلاف یا شام اور عراق میں جس پالیسی پر عمل پیرا ہے،اسی طرح کی پالیسی کو وہ جنوبی قفقاز میں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ توسیع پسندانہ پالیسی ہے۔‘‘

ان کے بہ قول:’’مسئلہ یہ ہے آرمینیائی جنوبی قفقاز میں ہیں اور وہ ترکی کی توسیع پسندانہ پالیسی پر عمل درآمد کی راہ میں آخری رکاوٹ رہ گئے ہیں۔اگر خطے میں ترکی کو کوئی روک نہ لگائی گئی تو اس کا اثرونفوذ جنوبی قفقاز کے لیے زہرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’ اس طرح پورا جنوبی قفقاز شام میں تبدیل ہوکررہ جائے گا اور آگ بڑی تیزی سے شمال اور جنوب کی جانب بھی پھیل جائے گی۔‘‘

آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان 1991ء میں سابق سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے ناگورنو قراباغ پر کنٹرول کے لیے تنازع چل رہا ہے اور وہاں 27 ستمبر سے متحارب فوجوں کے درمیان نئی لڑائی چھڑی تھی۔اس میں اب تک آرمینیائی نسل کے ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 1990ء کے عشرے کے اوائل میں ناگورنو قراباغ نے آذر بائیجان کے خلاف جنگ کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اس لڑائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تین سال کے بعد 1994ء میں آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا مگر اس کے باوجود اپریل 2016ء میں دوبارہ قراباغ میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔اس کے بعد اب دوبارہ خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔