.

نگورنو کاراباخ کی لڑائی میں ترکی کے 119 اجرتی جنگجو مارے جا چکے ہیں : المرصد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کا کہنا ہے کہ نگورنو کاراباخ میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان معرکوں میں انقرہ کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کے کم از کم 119 عناصر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ترکی نے ان شامیوں کو بطور اجرتی جنگجو اس لڑائی میں جھونکا۔

منگل کے روز المرصد نے تصدیق کی ہے کہ ترکی آنے والے دنوں میں لڑائی میں شرکت کے لیے اپنے ہمنوا 400 سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو آذربائیجان منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

المرصد نے واضح کیا کہ گذشتہ ہفتے 250 جنگجوؤں کے منتقل کیے جانے کے بعد اب تک ترکی کی جانب سے آذربائیجان پہنچائے جانے والے شامی جنگجوؤں کی مجموعی تعداد کم از کم 1450 تک جا پہنچی ہے۔

المرصد کے مطابق نگورنو کاراباخ میں مارے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں میں سے 78 کی لاشیں شام واپس لائی جا چکی ہیں جب کہ بقیہ لاشیں ابھی تک آذربائیجان میں موجود ہیں۔

المرصد نے اپنے ذرائع کے حوالے سے باور کرایا ہے کہ شامی جنگجوؤں کو بھرتی کرنے اور انہیں آذربائیجان بھیجنے کے لیے ترکی کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم لیبیا کے برعکس انقرہ کو آذربائیجان بھیجنے کے لیے شامی جنگجوؤں کو کشش دلانے میں کافی دشواری کا سامنا ہے۔

المرصد کے ذرائع کے مطابق ترکی کی حکومت شامی جنگجو گروپوں سے یہ کہتی ہے کہ آذربائیجان میں ان کا مشن آئل فیلڈز اور سرحدوں کی حفاظت تک محدود رہے گا۔