تزویراتی مکالمے سے امریکا،سعودی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگیا: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے امریکا،سعودی تزویراتی مکالمے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو محکمہ خارجہ ،واشنگٹن میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان آج تزویراتی مکالمے کا آغاز ہوا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ’’ ہم نے آج کی گفتگو میں نہ صرف سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے باہمی رضامندی کا اظہار کیا ہے بلکہ مجموعی شراکت داری کو بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔‘‘

انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا الریاض میں اپنے نئے سفارت خانے کی تعمیر کے لیے 26 ایکڑ اراضی خرید کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی حکام سے بات چیت کررہا ہے۔

دونوں ملکوں کے وفود نے اس تزویراتی مکالمے میں ایران کے تخریبی کردار سمیت علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کی ہے۔مائیک پومپیو نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کررہا ہے اور عالمی تجارت میں رخنے ڈال رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ آج ہم نے ایران کی تخریبی سرگرمیوں اور اس سے علاقائی سلامتی اور خوش حالی کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے باہمی عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا سعودی عرب کو اسلحے کی جلد فروخت کے لیے ایک تیزرفتار پروگرام کا حامی ہے۔اس کوشش سے سعودی عرب کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور امریکیوں کی ملازمتوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔‘‘

اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے تخریبی کردار کی مذمت کی اور کہا کہ اس نے یمنی حوثیوں سمیت مختلف دہشت گرد گروپوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔

انھوں نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ یمن سے حوثیوں نے ایرانی ساختہ 300 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور ڈرونز سعودی عرب کی جانب فائر کیے ہیں۔ایرانیوں نے اپنا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام جاری رکھا ہوا ہے۔ان کی تخریبی سرگرمیوں سے خطے اور دنیا کو سنگین خطرات درپیش ہیں۔

شہزادہ فیصل نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یمن میں جاری بحران کے جامع سیاسی حل کا حامی ہے۔انھوں نے یمن میں بحیرہ احمر میں ایک عرصے سے لنگرانداز تیل بردار جہاز ایف ایس او صفر سے ناقابل تلافی ماحولیاتی نقصان کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔ حوثی ملیشیا عالمی ماہرین کو اس آئیل ٹینکر تک مکمل رسائی نہیں دے رہی ہے جبکہ اس سے تیل سمندر میں رس رہا ہے جس سے آبی حیات کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

مائیک پومپیو نے قبل ازیں اپنی گفتگو میں سعودی عرب پر زوردیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے پر غور کرے۔انھوں نے معاہدۂ ابراہیم کی کامیابی کے ضمن میں اب تک معاونت پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے الگ الگ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔ان معاہدوں کو طے کرانے میں امریکا نے ثالث کا کردار کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’تزویراتی مکالمہ بڑے اہم وقت میں ہورہا ہے۔ہماری سلامتی اور خوش حالی کو درپیش خطرے اور اس کا سبب انتہا پسندی اور دہشت گردی کی قوتوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے درمیان مضبوط شراکت داری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں