ناگورنوقراباغ میں لڑائی سے قبل ترکی سے آذربائیجان کو اسلحہ کی برآمدات میں 6 گنا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی نے متنازع پہاڑی علاقے ناگورنو قراباغ میں جاری لڑائی سے قبل اپنے اتحادی آذربائیجان کو اس سال اسلحہ کی برآمدات میں چھے گنا اضافہ کردیا تھا اور اس کو صرف گذشتہ ماہ اس نے سات کروڑ 77 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈرونز اور دوسرے فوجی آلات فروخت کیے تھے۔

آذر بائیجان کو ترک اسلحہ کی برآمدات سے متعلق یہ اعداد وشمار’ترکی کے برآمدکنندگان کی اسمبلی نے فراہم کیے ہیں۔اس اسمبلی میں 61 شعبوں میں کام کرنے والی 95 ہزار سے زیادہ کمپنیاں شامل ہیں۔

اس کے ڈیٹا کے مطابق آذربائیجان نے 2020ء کے پہلے نو ماہ کے دوران میں ترکی سے 12کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کے دفاعی اور ایوی ایشن آلات خرید کیے ہیں۔اس نے جولائی کے بعد ترکی سے زیادہ تر ڈرونز، راکٹ لانچر، گولہ بارود اور دوسرے آلات درآمد کیے ہیں۔تب آرمینیا اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس کے بعد ترکی اور آذربائیجان نے مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔

برآمدی ڈیٹا کے مطابق جولائی میں آذربائیجان نے ترکی سے 278880 ڈالر مالیت کا اسلحہ اور ہتھیار خرید کیے تھے، اگست میں تین کروڑ 60 لاکھ اور ستمبر میں سات کروڑ 77 لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ درآمد کیا ہے۔واضح رہے کہ آذر بائیجان نے 2019ء کے پہلے نوماہ میں ترکی سے صرف دو کروڑ سات لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ خرید کیا تھا۔

ترکی کی وزارت دفاع کے نمایندے سے جب اسلحہ کی ان برآمدات کے اعدادوشمار کے بارے میں تبصرے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے وزیر دفاع حلوسی عکار کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیا۔ انھوں نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ترکی آذر بائیجان کی تمام ممکنہ ذرائع سے مدد کرے گا۔

آذر بائیجان اور ناگورنو قراباغ کی آرمینیائی نسل کی انتظامیہ کے تحت فوج کے درمیان 27 ستمبر کو نئی لڑی چھڑی تھی۔اس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی اس لڑائی میں آذر بائیجان کی بھرپور حمایت کررہا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ناگورنو قراباغ کا کنٹرول آذربائیجان کے حوالے کیا جانا چاہیے جبکہ آرمینیا اس متنازع علاقے کی آرمینیائی نسل پر مشتمل انتظامیہ کی حمایت کررہا ہے۔ترکی کا کہناہے کہ اس کو اس تنازع کے بارے میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پر بات چیت میں کردار ادا کرنے کا حق ہونا چاہیے جبکہ آرمینیا اس کا مخالف ہے۔

آرمینیائی وزیراعظم نیکول پیشنیان نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ترکی اگر ناگورنو قراباغ کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کر لے تو اس کے فوری بعد آذر بائیجان وہاں اپنی فوجی کارروائی روک سکتا ہے۔انھوں نے ترکی پر جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے جنوبی قفقاز کے خطے تک رسائی چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں