.

ترکی کے بحری جہاز کے سبب یورپ جھنجھلاہٹ کا شکار، پابندیوں کا عفریت انقرہ کے سر پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کا سربراہ اجلاس آج جمعرات کے روز ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں قبرص اور یونان کی جانب سے ترکی کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ سامنے آئے گا۔ اس سے قبل ترکی نے اپنے کھدائی کے بحری جہاز "اروچ ريس" کو اُن بحری علاقوں میں واپس پہنچا دیا تھا جس کے بارے میں یونان کا کہنا ہے کہ یہ اس کی خود مختاری کا حصہ ہے۔ دوسری جانب ترکی انہیں متنازع علاقے شمار کرتا ہے۔

برسلز میں ایک اعلی سطح کے سفارت کار نے آئندہ دو روز کے دوران سربراہ اجلاس میں ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ تاہم قریبی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ آج دوپہر میں اکٹھا ہونے والے سربراہان کی میز پر پیش کیا جائے گا۔ یورپی یونین کی قیادت بحیرہ روم کے مشرق کا بحران جمعے کی صبح زیر بحث لائے گی۔

رواں ماہ کے آغاز پر یورپی یونین کے رہ نماؤں نے اپنے اجلاس میں بحیرہ روم کے مشرق میں درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے دو راستوں کا تعین کیا تھا۔ پہلے آپشن میں انہوں نے ترکی کو پیش کش کی تھی کہ وہ قبرص اور یونان کے پانی سے اپنے جہازوں کو واپس بلا لے، یک طرفہ کارروائیوں کا سلسلہ روک دے اور یونان کے ساتھ اختلافات کے حل کی تلاش کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائے۔ اس کے مقابل یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تعاون کو گہرا بنانے کے لیے ایک مثبت منصوبہ عمل میں لایا جائے گا۔

البتہ اگر ترکی نے اپنی غیر قانونی شرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو دوسرا آپشن یہ ہے کہ یورپی یونین اتحاد کے مفادات کے تحفظ کے واسطے "دستیاب میکانزم" کا استعمال کرے گا۔ اس میں ترکی کے خلاف پابندیوں کی جانب اشارہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ بحیرہ روم کے مشرق کی صورت حال کے علاوہ یورپی یونین کو کرونا وائرس اور برطانیہ اور یوپی اتحاد کے درمیان شراکت داری کے مستقبل نے مصروف کر رکھا ہے۔

ادھر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کل بدھ کے روز یونان اور قبرص پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ مذاکرات کے دوران کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ ایردوآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ ان کا ملک اس جوابی کارروائی کو جاری رکھے گا جن کے یہ ممالک مستحق ہیں۔

ایردوآن کا یہ بیان انقرہ کی جانب سے اپنے بحری جہاز کو توانائی کی تلاش میں ایک نئے مشن پر بحیرہ روم کے متنازع پانی میں بھیجے جانے کے کئی روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس اقدام نے یونان اور قبرص کے ساتھ سمندری حدود اور توانائی کی تلاش کے حقوق کے حوالے سے تناؤ پیدا کر دیا۔

گذشتہ روز سفارت کاروں، ذمے داروں اور ماہرین نے باور کرایا تھا کہ ترکی کے ساتھ تناؤ ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کی حکمت عملی دو ہفتے بعد غیر مؤثر ثابت ہونا شروع ہو گئی ، یہ بات بحیرہ روم کے مشرق میں تنازع بھڑکانے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

رواں ماہ دو اکتوبر کو یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ ترکی کو اس امر پر قائل کیا جائے کہ وہ ان سمندری علاقوں میں قدرتی گیس کی تلاش کا کام روک دے جن پر انقرہ کا یونان اور قبرص کے ساتھ تنازع چل رہا ہے۔ تاہم ترکی نے کل بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ توانائی کی تلاش کی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر رہا ہے۔

ترکی نے گذشتہ ماہ یورپی یونین کے سربراہ اجلاس سے قبل اپنا بحری جہاز واپس بلا لیا تھا۔ تاہم پھر پیر کے روز اس جہاز کو اسی علاقے میں لوٹا دیا گیا۔ تین یورپی سفارت کاروں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس پیش رفت سے یہ تاثر ملا ہے کہ انقرہ برسلز کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔