.

فلسطینیوں اوراسرائیلیوں کو مذاکرات کی میز پرلانے پر توجہ مرکوز کی جائے:سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ مشرقِ اوسط امن عمل میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے پر توجہ مرکوز کی جانا چاہیے۔

وہ جمعرات کے روز واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب پالیسی میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے ہمیشہ یہ تصور کیا کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار ہوں گے لیکن (اس سے پہلے) ہمیں ایک فلسطینی ریاست اور فلسطینی ،اسرائیلی امن منصوبے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں سے مشرقِ اوسط امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی؟ اس کے جواب میں شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’’ ان معاہدوں سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے بنیادی نوعیت کے کام میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’اسرائیل کا غربِ اردن کے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے فی الوقت دستبردار ہونے کا فیصلہ معاہدۂ ابراہیم کے بعض مثبت پہلوؤں میں سے ایک ہے۔‘‘

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’’اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم اور مقدم کام یہ ہے کہ ان دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔‘‘