.

ناگورنو قراباغ کے معاملے میں ترکی کی مداخلت سے خطرہ بڑھ رہا ہے: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع میں ترکی کی مداخلت سے خطے میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ اس بحران کو سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کیا جائے۔ پومپیو نے ناگورنو قراباغ ریجن کو "بارود کی بوتل" قرار دیا۔

جمعرات کے روز WSB اٹلانٹا چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "اب ہمارے سامنے ترک ہیں جنہوں نے مداخلت کر کے آذربائیجان کو وسائل فراہم کیے۔ اس کے نتیجے میں خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس تاریخی تنازع میں لڑائی کی شدت بھی بڑھ رہی ہے"۔

پومپیو کے مطابق اس تنازع کا حل لڑائی کے ذریعے نہیں بلکہ پر امن مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ یقینا کسی تیسرے فریق کو اس میں داخل ہو کر ایسی جگہ جلتی پر تیل نہیں چھڑکنا چاہیے جو پہلے ہی بارود کی بوتل کی حیثیت رکھتی ہو۔

واضح رہے کہ 27 ستمبر سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری لڑائی میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ یہ 1991ء سے 1994ء کے درمیان ناگورنو قراباغ کے سبب ہونے والی جنگ کے بعد پرتشدد ترین معرکہ آرائی ہے۔ مذکورہ جنگ میں 30 ہزار لوگوں کی زندگی ختم ہو گئی تھی۔

ترکی کی جانب سے آرمینیا پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے آذربائیجان کی اراضی کے کچھ حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انقرہ کئی بار اس بات پر زور دے چکا ہے کہ آرمینیا کو علاقے سے نکل جانا چاہیے۔

اس تنازع میں حالیہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد ایک وسیع تر جنگ بھڑکنے کے اندیشے پیدا ہو چکے ہیں جس میں آذربائیجان کے حلیف ترکی اور آرمینیا کے ساتھ دفاعی سمجھوتے میں شریک روس کی شمولیت یقینی بن جائے۔

اسی طرح حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں ان پائپ لائنوں کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی خدشات نے جنم لیا ہے جن کے ذریعے آذربائیجان سے تیل اور گیس یورپ منتقل ہوتی ہے۔