.

کرونا وائرس :دبئی کا شادیوں اور سماجی تقریبات کی اجازت دینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امارت دبئی نے 22 اکتوبر سے شادیوں اور سماجی تقریبات کے انعقاد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس ضمن میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مہمانوں اور میزبانوں کو احتیاطی تدابیرکی پاسداری کرنا ہوگی۔

دبئی میڈیا دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’شادیوں اور سماجی تقریبات میں شریک ہونے والے تمام افراد کو ہمہ وقت چہروں پر ماسک پہننا ہوں گے اور صرف میزپرکھانے کے لیے بیٹھتے وقت انھیں اتارنا ہوگا۔ ایک میزکا دوسری میز سے کم سے کم دو میٹر کا فاصلہ ہوگا اور ایک میز پر صرف پانچ افراد کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔‘‘

’’شرکاء کو آپس میں ہاتھ ملانے ، معانقے اور گلے ملنے سے گریز کرنا ہوگا اور ایک دوسرے سے فاصلے ہی سے علیک سلیک کرنا ہوگی۔انھیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بیٹھنے سے بھی گریز کرنا ہوگا اور ایک فرد کا دوسرے فرد سے کم سےکم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے۔‘‘

’’کسی بھی تقریب کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ چار گھنٹے تک ہوگا۔ایک ہال میں دو سو تک مہمانوں کو مدعو کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ گھروں اور خیموں میں صرف 30 تک افراد شادی یا کسی دوسری تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔‘‘

دبئی کے میڈیا دفتر نے یہ ہدایت نامہ متحدہ عرب امارات میں ایک دن میں سب سے زیادہ 1538 کیسوں کی تشخیص کے بعد جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ یو اے ای میں پانچ اکتوبر کے بعد سے کووِڈ-19 کے 1000 سے زیادہ یومیہ مریضوں کی تشخیص ہورہی ہے۔

اماراتی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمرالحمادی کے مطابق ملک میں کووِڈ-19 کی وَبا پھیلنے کے بعد سے ایک کروڑ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ یو اے ای دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں اس کی کل آبادی سے بھی زیادہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

یو اے ای کی قومی ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اسی ماہ سات معائنہ ٹیموں کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ان میں سے ہر ایک ٹیم کو ملک میں شامل سات امارتوں میں کووِڈ-19 سے بچنے کے لیے نافذ کردہ حفاظتی احتیاطی تدابیرپرعمل درآمد کی نگرانی کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

اتھارٹی نے شعبہ صحت سے کہا تھا کہ وہ ملک بھر میں کروناوائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے مہم برپا کرنے کی تیاری کرے۔اس سے پہلے محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انفلوئنزا کی ویکسین لگوائیں تاکہ کووِڈ-19 کے مریضوں کی تعداد نہ بڑھے اور مراکزِ صحت اور طبی عملہ پر بوجھ میں بھی اضافہ نہ ہو۔