.

ترکی اجرتی جنگجوؤں کو کس طرح آذربائیجان منتقل کر رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی انتظامیہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری حالیہ تنازع میں آذربائیجان کی معاونت اور سپورٹ کے لیے اجرتی جنگجوؤں کو بھیجنے کی تردید کرتی ہے۔ تاہم ترک وزیر دفاع حلوصی آکار کا بیان اور ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ کی جانب سے پوچھ گچھ کے مطالبے کا جواب نہ دینا ،،، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ترکی واقعتا اجرتی جنگجوؤں کو آذربائیجان بھیجنے میں ملوث ہے۔ اس موقف کا اظہار حزب اختلاف کے ایک ترک سیاست دان نے کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عبیداللہ نے کہا کہ وزیر دفاع حلوصی آکار نے چند روز قبل آرمینیا کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس اراضی سے اپنی فوجیں واپس بلا لے جس پر آکار کے بقول آرمینیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ترک وزیر دفاع نے باور کرایا کہ انقرہ حکومت آذربائیجان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح حالیہ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد باکو کے دورے کے دوران آکار نے یہ بھی کہا تھا کہ آذربائیجان تنہا نہیں ، ہم اس کی سپورٹ جاری رکھیں گے۔ یہ تمام امور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترکی اس مسئلے میں نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ عسکری طور پر بھی مداخلت کر رہا ہے۔


محمد عبیداللہ نے واضح کیا کہ کرد ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ ساربل کمالبائی نے چند روز قبل درخواست پیش تھی کہ ترکی کی جانب سے اجرتی جنگجوؤں کو آذربائیجان بھیجنے سے متعلق دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کی بریفنگ منعقد کرائی جائے۔ ساربل نے مطالبہ کیا کہ اس بات کے بارے میں حقیقت کا انکشاف کیا جائے کہ ترکی نے 4 ہزار شامی اجرتی جنگجوؤں کو شمالی شام کے شہر عفرین سے آذربائیجان منتقل کیا۔ ان افراد کو ماہانہ 1800 ڈالر معاوضے پر بھرتی کیا گیا ہے اور ان کا مشن پورے تین ماہ جاری رہے گا۔

خاتون رکن پارلیمنٹ نے بریفنگ کے مطالبے میں بین الاقوامی رپورٹوں کا سہارا لیا جن کے مطابق آذربائیجان نے بیرقدار کمپنی سے ڈرون طیارے خریدے اور انہیں آرمینیائی فوج کے میزائلوں اور ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے واسطے استعمال کیا۔ اسی طرح خاتون رکن پارلیمنٹ نے شام کے سب سے بڑے انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے بیانات کا حوالہ دیا جن کے مطابق ترکی نے شام سے 300 اجرتی جنگجوؤں کو نکال کر آذربائیجان بھیجا۔ حزب اختلاف کی سیاسی شخصیت محمد عبیداللہ کے مطابق ترکی کی حکومت نے ابھی تک بریفنگ کے مطالبے کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

عبیداللہ نے باور کرایا کہ ترکی سادات کمپنی کے زیر انتظام کئی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے اجرتی جنگجوؤں کو منتقل کر رہا ہے۔ سادات کمپنی ترکی کی مسلح افواج کے مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والے 23 ریٹائرڈ افسران کی جانب سے قائم کی گئی۔ ترکی کے صدر کے سیکورٹی مشیر بریگیڈیئر جنرل عدنان تانریفردی کی سربراہی میں کمپنی نے فروری 2012ٗ میں کام شروع کیا۔

محمد عبیداللہ نے واضح کیا کہ مذکورہ کمپنی لوجسٹک اور عسکری خدمات پیش کرتی ہے اور وہ اسلحہ منتقل کرنے کے علاوہ اجرتی جنگجوؤں کو تربیت بھی دے رہی ہے۔ اس کا مقصد جعلی پاسپورٹوں کا استعمال کرتے ہوئے جنگجوؤں کو لڑائی کے علاقوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجرتی جنگجوؤں کو شام کے راستے لیبیا منتقل کرنے کے پیچھے بھی "سادات" کمپنی کا ہاتھ رہا ہے۔ اب غازی عنتاب کے راستے جنگجوؤں کو آذٓربائیجان منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایسے وقت میں جب کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اتوار کے روز اعلان شدہ دوسری جنگ بندی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے پر زور دے رہے ہیں ،،، ترکی کی جانب سے قوقاز میں بھڑکی آگ پر تیل چھڑکا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے روس کی وساطت سے اعلان کردہ پہلی فائر بندی چند گھنٹوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکی تھی۔

گذشتہ ماہ 27 ستمبر سے ناگورنو کاراباخ ریجن میں آرمینیا اور آذربائیجان کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ ریجن کی جانب سے آذربائیجان سے علاحدگی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس ریجن میں رہنے والوں کی اکثریت آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔