.

پیرس میں فرانسیسی استاد کا سرقلم کرنے والے چیچن نوجوان نے سعودی عرب مخالف کیا لکھا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں گذشتہ جمعہ کو ایک استاد کا سرقلم کرنے والا چیچن نوجوان ماضی میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر سعودی عرب کے خلاف بھی لکھتا رہا تھا۔

عبداللہ عنزروف نامی اس چیچن نژاد روسی نے گذشتہ جمعہ کو پیرس کے شمال مغرب میں واقع علاقے کنفلانس سینٹ ہونورین میں 47 سالہ استاد سیموئل پیٹی کا اس کے اسکول کے باہر سرقلم کردیا تھا اور پھر اس کے کٹے ہوئے سر کی تصویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ “@tchetchene_270” پر پوسٹ کردی تھی لیکن ٹویٹر نے بعد میں اس کا یہ اکاؤنٹ معطل کردیا تھا۔

ٹویٹر پر اس تصویر کے منظرعام آنے کے فوری بعد فرانسیسی پولیس نے اس 18 سالہ چیچن نوجوان کو جالیا تھا مگر اس نے پولیس اہلکاروں پر شاٹ گن سے فائرنگ کردی۔اس کے جواب میں وہ پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

قبل ازیں 13 ستمبر کو العربیہ انگلش کو ایک ٹویٹ تھریڈ کے اسکرین شاٹس موصول ہوئے تھے۔یہ ٹویٹس عنزروف کے مذکورہ اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی تھیں۔اس میں سعودی عرب، اس کی قیادت اور ان کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف عبارت درج تھی۔اس کے علاوہ اس نے سعودی عرب کے مرحوم فرماں روا شاہ فہد بن عبدالعزیز کی برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوم اور ان کی والدہ ملکہ ایلزبتھ کے ساتھ تصویر پوسٹ کی تھی مگر ان دونوں شاہی خواتین کے چہروں کو چھپا دیا گیا تھا۔

اس نے سعودی عرب کے بارے میں تند وتیز الفاظ میں عبارت لکھی تھی اور اس کو اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک، عالمی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ تعاون پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ لکھا کہ اس نے بدعقیدوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا،جہاد کو ترک کردیا،افغانستان میں طالبان اور عراقیوں کے خلاف جنگ میں صلیبیوں سے اتحاد قائم کیا تھا۔

اس کی اس اشتعال انگیز تحریر پر بعض صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔مہدی عیسیٰ نامی ایک صارف نے لکھا:’’اللہ کا خوف کھاؤ، اللہ نے جو کچھ کہا ہے اور جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل پیرا رہے اور جو کچھ آپ ﷺ نے فرمایا،اس کو سیکھو۔‘‘

عنزروف نے 13 ستمبر کے بعد اور 16 اکتوبر سے قبل کسی وقت اس تھریڈ کو ڈیلیٹ کردیا تھا اور پولیس کی کارروائی میں قتل سے قبل مذکورہ اکاؤنٹ ہی پر اسکول ٹیچر کا سرقلم کرنے کے بعد اس کی تصویر پوسٹ کی تھی۔اس نے اس کے ساتھ درج عبارت میں فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں کو مخاطب کیا تھا اور یہ لکھا تھا کہ ’’اس نے توہین رسالت کی پاداش میں اس ٹیچر کو قتل کیا ہے۔‘‘

اس فرانسیسی ٹیچر نے مبیّنہ طور پر اپنے طلبہ کو پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی خاکے دکھائے تھے۔اس مذموم فعل پر مقامی مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس مقتول ٹیچر پیٹی کو آن لائن بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ اور مکہ مکرمہ میں قائم رابطہ عالم اسلامی نے فرانس کے نواح میں اس ٹیچر کے قتل کی مذمت کی تھی اور اس کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔انھوں نے ہرقسم کی دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔