.

اسرائیل کے ساتھ امن سوڈان کے بہترین مفاد میں ہے: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سوڈان (السودان) بہت جلد اسرائیل کو تسلیم کر لے گا جبکہ امریکا نے سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے حذف کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔

مائیک پومپیو نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے:’’امریکا یہ چاہتا ہے کہ ہرملک اسرائیل کو ایک جائز صہیونی ریاست کے طور پر تسلیم کرے اور صہیونیوں کے ایک ملک کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنے کے بنیادی حق کو تسلیم کرے۔‘‘

مائیک پومپیو نے کہا:’’ہم ان کے ساتھ پوری جاں فشانی سے اس معاملے پر کام کررہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خودمختار فیصلہ سوڈانی حکومت کے کہاں تک مفاد میں ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ’’ ہمیں امید ہے کہ وہ یہ کام کریں گے اور ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ وہ بہت جلد یہ کام کریں گے۔‘‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو یہ اعلان کیا تھا کہ سوڈان کا نام امریکا کی دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا۔

امریکا نے 1993ء میں سوڈان کو سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کے دور حکومت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والاملک قرار دیا تھا۔ تب القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن نے سوڈان کا رُخ کیا تھا اور وہ وہاں کئی سال تک (اب) برطرف صدرعمر حسن البشیر کے مہمان رہے تھے۔

سوڈان نے امریکا کی بلیک لسٹ سے نکلنے کے لیے 1998ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر القاعدہ کے دو بم حملوں میں ہلاک شدگان کے متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر ہرجانے کے طور پر ادا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ سوڈان کے مرکزی بنک نے منگل کے روز ہلاک شدہ امریکیوں کے لواحقین اور زخمیوں کو ہرجانے کے طور پر یہ رقوم منتقل کردی ہیں۔

اس کے ایک روز بعد مائیک پومپیو نے بتایاہے کہ امریکا نے سوڈان کے نام کے اخراج کے لیے عمل شروع کردیا ہے۔اس کے بعد کانگریس 45 روز میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام پر کوئی اعتراض اٹھا سکتی ہے۔تاہم مائیک پومپیو کے بہ قول کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درمیان اس معاملے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ درست اقدام کیا جانا چاہیے۔

اگراسرائیل کا آیندہ چند روز میں عرب ملک سوڈان کے ساتھ امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کو امریکا میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔ان کے بعد امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایک اور عرب ملک کی بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔