.

افغانستان: طالبان جنگجوؤں کے حملے میں 25 سکیورٹی اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کے ایک حملے میں پچیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان نے منگل کی شب صوبہ تخار میں افغان سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔ صوبائی گورنر کے ترجمان جواد ہجری نے بدھ کو بتایا ہے کہ دن میں بھی طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری تھی۔انھوں نے طالبان کے حملے میں 25 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان نے علاقے میں بعض مکانوں میں گھس کر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔انھوں نے ہماری فورسز پر حملہ کردیا۔اس وقت افغان فورسز کے اہلکار وہاں دشمن کے خلاف کارروائی کررہے تھے۔

صوبہ تخار کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر عبدالقیوم نے طالبان کے حملے اور لڑائی میں 34 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔مہلوکین میں صوبے کے ڈپٹی پولیس سربراہ بھی شامل ہیں۔طالبان نے اس حملے کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطرمیں گذشتہ ماہ امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔اس کے باوجود جنگ زدہ ملک میں تشدد کےواقعات کا سلسلہ جاری ہے اورطالبان نے افغان سکیورٹی فورسز پر اپنے حملے تیز کررکھے ہیں۔

طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند میں گذشتہ ہفتے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔صوبہ غورمیں گذشتہ اتوار کو پولیس کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک کاربم دھماکا ہواتھا جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ستمبر سے طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار ہوچکے ہیں لیکن ان میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔افغان حکومت کے ایک مذاکرات کار نادرنادری کا کہنا ہے کہ ’’تشدد کی بلند سطح نے یقینی طور پر مذاکرات کو مشکل بنا دیا ہے۔اس قسم کی صورت حال فوری جنگ بندی کی متقاضی ہے۔‘‘

افغانستان کے لیے امریکاکے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’لڑائی نے امن عمل کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔حال ہی میں تشدد کو کم کرنے کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے مگر اس کے باوجود آج تشدد کی سطح مایوس کن حد تک بلند ہے۔‘‘