.

ایردوآن آذر بائیجان کی مدد پر مُصِر، آرمینیا نے ترک ڈرون مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ جنگی بندی کی عالمی اپیلوں کے باوجود وہ آرمینیا کے خلاف جنگ میں آذر بائیجان کے ساتھ ہیں۔ ادھر کل منگل کے روز آرمینیا کی فوج نے متنازع صوبہ ناگورنا کارا باخ میں تُرکی کا ایک ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

آرمینیا نے مطالبہ کیاہے کہ کینیڈا کی طرح دوسرے ممالک بھی ترکی کو فوجی ٹیکنالوجی کی سپلائی بند کریں۔

کل منگل کے روز ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر مصطفیٰ شنطوب نے ایوان سے خطاب میں‌کہا تھا کہ آذر بائیجان کو ناگورنو کارا باخ میں لڑائی جاری رکھجنی چاہیے۔

شنطوب نے متنازع علاقے میں جنگ بندی کی مخالفت کی اور کہا کہ آرمینیا کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اپنے جدو جہد جاری رکھیں کیونکہ آپ اپنے وطن کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔ترکی اس جدوجہد میں آذر بائیجان کے ساتھ کھڑا ہوگا'۔

پانچ اکتوبر کو کینیڈا کے وزیر خارجہ فرانس فیلپ شامبانی نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے عارضی طور پر ترکی کو فوجی سازو سامان کی سپلائی معطل کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ترکی کو فراہم کردہ اسلحہ آذر بائیجان کو فراہم کرنے کے الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی برآمدات کی کڑی نگرانی کررہے ہیں۔ اگر ترکی کو برآمد کردہ ہمارا اسلحہ اور جنگی سامان متنازع علاقے کارا باخ میں‌استعمال کیا جا رہا ہے تواس پر ترکی سے باز پرس کی جائے گی۔

دریں اثنا روس اور امریکا نے ناگورنا کاراباخ میں لڑائی جاری رہنے اور جنگ بندی کی کوششوں کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک آرمینیا کے 772 فوجی اور 36 عام شہری مارے جا چکے ہیں جب کہ جوابی حملوں میں آذر بائیجان کے 63 شہری ہلاک ہوئے ہیں تاہم فوجیوں کی ہلاکتوں‌ کی تفصیل سامنےنہیں لائی گئی۔

دونوں ملکوں کے درمیان متنازع علاقے کارا باخ پر 1990ء سے کشیدگی جاری ہے اور اب تک وقفے وفقے سے ہونے والی لڑائیوں میں دونوں طرف 30 ہزار سے زاید افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔