.

سعودی عرب: کھلاڑیوں کے ناموں کو قمیض پر عربی میں تحریر کرنے کے منصوبے کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ثقافت کی جانب سے پرنس محمد بن سلمان پروفیشنل کپ فٹبال لیگ کے کھلاڑیوں کی قمیضوں پر ان کے ناموں کو عربی میں تحریر کرنے کا منصوبہ بھرپور پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ درست سمت میں ایک درست اقدام ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے عربی زبان کی خدمت اور عربی رسم الخط کی سپورٹ کے لیے وزارت ثقافت اور وزارت کھیل کے درمیان تعاون کو قابل ستائش قرار دیا جا رہا ہے۔

کنگ سعود یونیورسٹی کے پروفیسر اور مضمون نگار عبدالمحسن العقیلی نے باور کرایا ہے کہ یہ منصوبہ اپنے طور پر سرکاری اداروں کی مربوطیت اور سماجی سطح پر جدت کے حامل خیال کا مثالی نمونہ ہے۔ اس سے عربی زبان کے وجود کو مضبوطی حاصل ہو گی اور عربی رسم الخط کے جمالیاتی پہلو نمایاں ہو گے۔

دوسری جانب کھیلوں سے متعلق عربی روزنامے الاسبق کے ایڈیٹر انچیف سعد المہدی نے اس منصوبے کو شان دار قرار دیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ عربی زبان کے تحفظ اور عوام کے درمیان عربی رسم الخط کو پھیلانے کے حوالے سے یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔ المہدی کے مطابق سعودی پروفیشنل فٹبال لیگ میں 50 سے زیادہ ممالک کے شہری نظر آئیں گے۔ لیگ میں 200 سے زیادہ کھلاڑی اور تربیت کار شریک ہوں گے۔ ان میں ایک بڑی تعداد عربی نہ بولنے والوں کی ہے۔ لہذا اس منصوبے سے عربی زبان اور اس کی ثقافت کو متعارف کرانے کا موقع ملے گا۔ غیر عرب کھلاڑی اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عربی زبان میں لکھا ہوا نام پکاریں گے جس سے وہ زبان سے مانوس ہوں گے۔

طائف یونیورسٹی میں ثقافتی لسانیات کے پروفیسر ڈاکٹر خالد الغامدی نے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے باور کرایا کہ یہ منصوبہ متعدد تہذیبی مقاصد کو پورا کرے گا۔ یہ منصوبہ اپنے اندر ثقافتوں کے درمیان مثبت مقابلے کی ایک نوعیت ہے۔ یہاں غیر عرب کھلاڑی کا نام عربی حروف میں لکھا جائے گا جس سے اس کھلاڑی کو عربی زبان کے حوالے سے خوش گوار احساس ہو گا۔