.

فرانس: ٹیچر کا سر قلم کرنے کے جرم میں ملوث مراکشی نژاد مبلغ کے بارے میں تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں آج بدھ کے روز سات افراد کو انسداد دہشت گردی کے امور سے متعلق تحقیقات کرنے والے ایک مقامی جج کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان افراد میں جمعے کے روز دارالحکومت پیرس کے نزدیک ایک استاد سامویل پیٹی کا سر قلم کر دینے کے واقعے میں ملوث ایک مراکشی نژاد مبلغ عبدالحکیم صفریوی بھی شامل ہے۔ آج کی پیشی کا مقصد فرانس کو ہلا کر رکھ دینے والے اس جرم کے سلسلے میں مذکورہ افراد کے خلاف الزامات عائد کرنا ہے۔

مراکشی نژاد مبلغ کے الاخوان المسلمین اور حماس تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ اس کا نام ہفتے کے روز سے فرانسیسی میڈیا میں زیر گردش رہا۔ میڈیا نے عندیہ دیا کہ وہ تاریخ اور جغرافیا کے استاد سامویل پیٹی کے قتل میں کسی نہ کسی صورت ملوث ہے۔ سامویل کو ایک چیچن نژاد روسی پناہ گزین نوجوان نے پیرس کے نزدیک واقع علاقے "كونفلان سینٹ ہونورين" میں سر قلم کر کے موت کی نیند سلا دیا تھا۔

فرانسیسی عدلیہ نے عبدالحکیم صفریوی اور اس کی اہلیہ کو طلب کر لیا تھا۔ وہ کئی روز سے زیر حراست ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دہشت ناک حملے میں صفریوی کا کردار جاننے کی کوشش ہے۔

اس کہانی کا آغاز رواں ماہ کے اوائل میں ہوا جب صفریوی نے لوپوا دولن اسکول کی پرنسپل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صفریوی نے مطالبہ کیا کہ سامویل پیٹی کو کام سے روک دیا جائے۔

بعد ازاں فرانسیسی شہریت کے حامل اس مبلغ کا وڈیو کلپ سامنے آیا۔ اس میں مذکورہ شخص نے خود کو فرانس کی آئمہ کونسل کا رکن بتایا۔ اس نے فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات بھڑکا رہے ہیں۔

اسی طرح صفریوی نے مقتول استاد کے خلاف اشتعال انگیزی کی مہم شروع کر دی اور اسے اسلام کا دشمن قرار دیا۔

فرانسیسی جریدے "لوپوان" کے مطابق عبدالحکیم صفریوی 2011 میں اپنی شدت پسند سرگرمیوں کے ساتھ ظاہر ہوا تھا۔ اس موقع پر صفریوی نے سینٹ وان انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کیوں کہ ادارے نے طویل اسکرٹ پہننے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم اس شدت پسند شخص کا ریکارڈ فرانسیسی انٹیلی جنس کے پاس طویل عرصے سے موجود ہے۔ سال 2000 میں وہ متعدد بار اکثر سخت گیروں کے مظاہروں میں نمودار ہوا۔

اسی سال کے وسط میں صفریوی نے خود کو "امام" کا خطاب دیا۔ اس دوران وہ پیرس میں ایک پبلشنگ ہاؤس چلا رہا تھا۔

فرانس میں بعض مسلمان مذہبی شخصیات نے میڈیا کو دیے گئے بیانات میں صفریوی کو خطرناک انسان قرار دیا۔ بورڈو شہر کی ایک مسجد کے امام طارق ابرو ،،، صفریوی کو کئی برسوں سے جانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص پاگل، اشتعال انگیزی پھیلانے والا اور فرانسیسی اقدار کے حوالے سے خطر ناک انسان ہے ... وہ ایک بزدل شخص ہے جو اپنی شدت پسندی کی تعلیمات سے کمزور ذہنوں کو سیراب کرتا ہے۔