.

سعودی عرب کی ناروے میں نئی سفیر اَمال المعلمی کا تعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے عہد کو پیما کرتے ہوئے ملکی تاریخ کی دوسری خاتون سفیر اَمال یحییٰ کو ناروے میں تعینات کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی [ایس پی اے] کے مطابق امل یحییٰ المعلمی نے ایک ورچوئل اجلاس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اپنے عہدے کا حلف لیا ۔ ان سے قبل شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی ریما بنت بندر کو امریکا میں سعودی عرب کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

اَمال یحییٰ المعلمی کا تعارف

اَمال المعلمی سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کے بین الاقوامی تعاون کے ذمہ دار شعبے کی مینیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ شاہ عبدالعزیز سنٹر برائے قومی مباحثہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل بھی رہ چکی ہیں۔

انھوں نے سعودی عرب کی شہزادی نورہ بنت عبدالرحمٰن یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی یونیورسٹی آف ڈینور سے ابلاغیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

اَمال المعلمی کو برطانیہ کے آکسفورڈ سنٹر برائے اسلامی اسٹڈیز کی فیلوشپ ملی تھی اور وہ متعدد مقامی اور بین الاقوامی کانفرنسز میں بطور مقرر شرکت کر چکی ہے۔

اَمال المعلمی نے 2019ء میں اقوام متحدہ کے معاشی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے ایک اجلاس کے موقع پر کہا "سعودی عرب میں وژن 2030 کے حوالے سے اصلاحات کا اثر مملکت کے علاوہ عرب دنیا اور عالم اسلام پر بھی دیکھنے کو ملے گا۔ اب ایسا کوئی میدان نہیں جہاں پر سعودی خواتین اپنی خدمات پیش نہ کرسکیں گی۔"

اَمال المعلمی کے بھائی عبداللہ المعلمی بھی عالمی سطح پر سعودی عرب کے لیے سفارتکاری کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے ہیں۔

عبداللہ المعلمی نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا "مجھے اپنی بہن امال پر فخر ہے کہ انہوں نے شاہ سلمان کے سامنے حلف اٹھا کر ناروے میں سعودی عرب کی سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں ۔اس موقع پر ہماری خوشی میں شریک ہونے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میرے مرحوم والد اور والدہ نے ہمیں مملکت اور اس کے حاکموں سے پیار کرنے کی تربیت دی تھی۔ شکر الحمدللہ۔"