.

فائر بندی کی خلاف ورزی کے حوالے سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے ٹویٹر پر بتایا ہے کہ آرمینیا نے آج جمعرات کی صبح آذربائیجان پر بیلسٹک میزائل داغے۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ آرمینیا کی فوج کی جانب سے فائر بندی کی بھرپور خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر آرمینیا کی وزارت خارجہ نے آذربائیجان اور اس کے حامی ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کی کوششوں کو برباد نہ کریں۔

آذربائیجان کے صدر کے معاون حکمت حاجییف نے اپنی ٹویٹ میں آرمینیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آذربائیجان کے شہروں پر میزائل داغے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمینیا نے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب آرمن پریس نیوز ایجنسی کے مطابق آرمینیا کی وزارت خارجہ نے آذربائیجان اور اس کے حامی ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ فائر بندی کو مستحکم بنانے کے سلسلے میں عالمی برادری کی کوششوں پر پانی نہ پھیریں۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آرمینیا معاندانہ کارروائیاں روکنے سے متعلق 10 اور 17 اکتوبر کو طے پانے والے دونوں معاہدوں پر غیر مشروط عمل درامد جاری رکھنے کی تائید کرتا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے دفاع میں مدد کے لیے فوج میں بطور رضا کار اپنا اندراج کرائیں۔ نگورنو کاراباخ ریجن کے حوالے سے آرمینیا اور آذربائیجان کی فوجوں کے درمیان معرکہ آرائی اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور لڑائی کی شدت میں کمی آنے کے کوئی اشارے نظر نہیں آ رہے۔

وزیر اعظم نیکول باشینیان نے بدھ کی شام کہا کہ اس وقت سفارت کاری کے ذریعے نگورنو کاراباخ کے معاملے کے تصفیے کے واسطے کوئی وسیلہ نہیں پایا جاتا۔ اس صورت حال میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سفارتی تصفیے کی تلاش کے حوالے سے تمام تر امیدوں ، تجاویز اور خیالات کا باب بند ہو چکا ہے۔

نگورنو کاراباخ کے ذمے داران کے مطابق 27 ستمبر کو آذربائیجان کے ساتھ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے آرمینیا کی فوج کے 834 اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 30 سے زیادہ شہریوں نے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو لیا۔ آذربائیجان نے اپنے فوجی خسارے کا انکشاف نہیں کیا تاہم اس کا کہنا ہے کہ اب تک 63 شہری ہلاک اور 292 زخمی ہو چکے ہیں۔

آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے جنگی کارروائیاں روکنے کے لیے ،،، نگورنو کاراباخ سے آرمینیائی فوج کے انخلا کی شرط رکھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آذربائیجان طاقت کے زور پر اپنی اراضی واپس لینے کا حق رکھتا ہے جب کہ تین دہائیوں کے قریب جاری رہنے والی عالمی وساطت کے نتیجے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

جنگ بندی کے لیے ثالثی بننے کی دو کوششیں ناکام ہو جانے کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کل بدھ کے روز آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ایک بار پھر الگ الگ ملاقات کی۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت میں فائر بندی کے معاہدوں سے متعلق فوری نوعیت کے امور پر توجہ مرکوز رہی۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ جمعے کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کریں گے۔

پومپیو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ واشنگٹن اس تنازع کے پائیدار تصفیے کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ فائر بندی کے حوالے سے متفقہ امور کی پاسداری کریں۔

ترکی نے اس تنازع میں نمایاں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے حلیف آذربائیجان کے اس حق کا دفاع کیا ہے کہ اسے طاقت کے زور پر اپنی اراضی واپس لینے کا اختیار ہے۔ اسی طرح انقرہ نے گذشتہ برسوں کے دوران حملہ آور ڈرون طیارے اور دور تک مار کرنے والے میزائل نظام بھی فراہم کیے جن کے سبب آذربائیجان کی فوج کو لڑائی کے میدان میں برتری حاصل ہے۔

اسی دوران آرمینیا میں فوجی اڈہ رکھنے والے روس نے بھی معاملے میں مداخلت کی۔ ایک سیکورٹی معاہدے کے تحت ماسکو اپنے حلیف کے تحفظ کا پابند ہے۔ روس اس وقت آذربائیجان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے اور ترکی کے ساتھ اختلاف سے گریز کے لیے محتاط رہ کر کوشش کر رہا ہے۔

آرمینیا کے صدر ارمین سرکیسیان نے بدھ کے روز برس