.

لبنان : سعدالحریری ایک سال کے بعد دوبارہ وزیراعظم نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون نے سعد الحریری کو دوبارہ وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ سعد الحریری کو وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی کی پارلیمان سے منظوری کے وقت ماضی کے مقابلے میں کم ووٹ پڑے ہیں۔

لبنان کی دونوں بڑی مسیحی جماعتوں ،سمیر جعجع کے زیر قیادت لبنانی فورسز اور اس کی حریف صدر میشیل عون کی فری پیٹریاٹک موومنٹ (ایف پی ایم ) نے سعد الحریری کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کی حمایت نہیں کی ہے۔

پارلیمان کے 64 ارکان نے ان کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ صدارتی محل میں مشاورت کے وقت 55 ارکان نے کسی بھی سنی سیاست دان کو وزیراعظم نامزد نہیں کیا ہے۔سب سے پہلے سعد حریری کی اپنی جماعت مستقبل تحریک نے ان کا نام پیش کیا تھا اور اس کے بعد پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری اور سلیمان فرنجیح کے پارلیمانی بلاک نے ان کی حمایت کی ہے۔

لبنانی فورسز نے صدارتی محل میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے مشاورت کے بعد ایک مختصر بیان میں واضح کیا ہے کہ اس نے ستمبر 2019ء میں قومی مکالمے کے موقع پر مکمل طور پر آزاد حکومت کی تشکیل پر زوردیا تھا۔

اس نے اکتوبر 2019ء میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور اب فرانسیسی صدرعمانوایل ماکروں کی اس سال ستمبر میں لبنان میں آزاد ماہرین پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مجوزہ سیاسی منصوبے سے قبل یہ تجویز پیش کی تھی۔

سابق وزیر خارجہ اور ایف پی ایم کے لیڈر جبران باسیل نے بھی کہا ہے کہ سعد الحریری نے جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے آزاد ماہرین پر مشتمل حکومت کی تشکیل کے لیے تجویز کو خود ہی مسترد کردیا ہے۔اسی لیے ان کی جماعت نے ان کی نامزدگی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ سال 17 اکتوبر سے ارباب اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، پے در پے آنے والی حکومتوں کی نااہلی ،شہری خدمات کے پست معیار ،ڈوبتی قومی معیشت اور ہوشربا مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج مختلف دھڑوں نے سعدالحریری کی بہ طور وزیراعظم نامزدگی کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو جاری رکھیں گے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت میں تحریک جاری رکھیں گے اور ایک نئے ، سول اور جمہوری سماجی معاہدے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرتے رہیں گے تاکہ قانون کی حکمرانی کی حامل ریاست قائم کی جاسکے۔

تاہم لبنان کی ایک سیاسی کارکن اور لا گریجوایٹ لین نیمنہ کا کہنا ہے کہ سعدالحریری کی ایک ہی اچھی بات ہے اور وہ یہ کہ ان کے عالمی برادری سے بہتر تعلقات استوار ہیں۔لبنان کو موجودہ دگرگوں حالات میں ایسے اچھے تعلقات کی اشد ضرورت ہے لیکن بہ طور وزیراعظم وہ گذشتہ برسوں کے دوران میں ملک کو درپیش مسائل کے حل اور اس کو درست سمت میں استوار کرنے میں ناکام رہے تھے۔