.

آرمینیا ترکی کی حمایت یافتہ عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے: صدر آمین کیسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسین نے کہا ہے کہ ان کا ملک ترکی کی حمایت یافتہ بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ترکی اس جنگ میں پورے ہتھیاروں کے ساتھ دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ مصری اخبار الاحرام کو دیے گئے ایک انٹرویو کہا کہ آذر بائیجان نے ترکی کی مدد سے ہمارے علاقوں پر جارحیت مسلط کررکھی ہے۔ سرکیسیئن نے کہا کہ فوجی جارحیت ، براہ راست سیاسی مداخلت اور آذربائیجان کا سب سے بڑا حامی ترکی کا تباہ کن طرز عمل ایک ثابت اور ناقابل تردید حقیقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی شام اور لیبیا سے اجرتی اور دہشت گرد بھیج کرآرمینیائی عوام کے خلاف "شیطانی نیٹ ورک" کو استعمال کر رہا ہے۔

آرمینین صدر نے کہا کہ آذربائیجان میں غیرملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی پورے خطے اور عالمی امن کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

سرکیسیئن نے کہا کہ اس (ترکی) کی جارحیت کا بنیادی مقصد نسلی صفائی ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جو عثمانی سلطنت نے بیسویں صدی کے اوائل میں آرمینیوں کے خلاف چلائی تھی۔ موجودہ ترک حکومت اسی کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ترکی پر الزام ہے کہ وہ آرمینیا کے متنازع علاقے ناگورنو-کاراباخ خطے میں تناؤ بڑھا رہا ہے۔ ترک نائب صدر فواد اقطائی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اگر باکو نے مدد مانگی تو ان کا ملک آذربائیجان کو فوج بھیجنے اور فوجی مدد فراہم کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے ابھی تک یہ درخواست نہیں کی تھی۔

بدھ کے روز آرمینیائی صدر نے کہا کہ اگر ترکی نیٹو کا ممبر ناگورنو-کارابخ تنازع کا فریق بننا چھوڑ دیتا ہے تو پھر جنگ بندی اور امن مذاکرات تک پہنچنا ممکن ہے۔