.

حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے باور کرایا ہے کہ لبنان میں سعد حریری کو وزیراعظم نامزد کیے جانے کے بعد بھی امریکا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا اور اس کے اتحادیوں‌ پر پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

ایک امریکی عہدے دار نے جمعرات کے روز کہا کہ ان کا ملک لبنان میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں پر پابندیاں عائد کرنا جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا جب لبنان میں صدر میشل عون اور سیاسی جماعتوں‌ نے ایک سال بعد دو بارہ سعد بحریری کو وزیراعظم نامزد کیا ہے۔توقع ہےکہ سعد حریری کی زیر قیادت قائم ہونے والی کابینہ ضروری اصلاحات کو نافذ کرے گی اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کرے گی۔

مشرقی امور کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ شینکر نے نامہ نگاروں کو بتایا امریکا حزب اللہ اور اس کے لبنانی اتحادیوں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرتا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے کام جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کو نکیل ڈالنے کی پالیسی پرعمل کریں‌ گے۔

شینکر نے کہا کہ واشنگٹن جو حزب اللہ کو ایک "دہشت گرد" گروہ قرار دیتا ہے کئی سال سے اس پر پابندیاں عائد کرتا چلا آ رہا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی حکومت نے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی جماعت 'تحریک امل' کے سابق وزیر خزانہ علی حسن خلیل کو بھی بلیک لسٹ کیا تھا۔

سعد حریری نے حکومت تشکیل دینے کے لیے ان کے تقرری کے بعد لبنانی عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اس تباہی کو روکیں گے جس سے معیشت اور معاشرے کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی حکومت لبنان کے لیے آخری موقع ہوگا۔ فرانسیسی فارمولے کے مطابق لبنانی حکومت "آزاد اور غیر جانبدار" ہوگی۔ انہوضں‌نے دھماکوں سے تباہ ہونے والی بندرگاہ کی دوبارہ تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
لبنان کے صدر میشیل عون نے سعد الحریری کو دوبارہ وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ سعد الحریری کو وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی کی پارلیمان سے منظوری کے وقت ماضی کے مقابلے میں کم ووٹ پڑے ہیں۔

لبنان کی دونوں بڑی مسیحی جماعتوں ،سمیر جعجع کے زیر قیادت لبنانی فورسز اور اس کی حریف صدر میشیل عون کی فری پیٹریاٹک موومنٹ (ایف پی ایم ) نے سعد الحریری کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کی حمایت نہیں کی ہے۔

پارلیمان کے 64 ارکان نے ان کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ صدارتی محل میں مشاورت کے وقت 55 ارکان نے کسی بھی سنی سیاست دان کو وزیراعظم نامزد نہیں کیا ہے۔سب سے پہلے سعد حریری کی اپنی جماعت مستقبل تحریک نے ان کا نام پیش کیا تھا اور اس کے بعد پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری اور سلیمان فرنجیح کے پارلیمانی بلاک نے ان کی حمایت کی ہے۔

لبنانی فورسز نے صدارتی محل میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے مشاورت کے بعد ایک مختصر بیان میں واضح کیا ہے کہ اس نے ستمبر 2019ء میں قومی مکالمے کے موقع پر مکمل طور پر آزاد حکومت کی تشکیل پر زوردیا تھا۔

اس نے اکتوبر 2019ء میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور اب فرانسیسی صدرعمانوایل ماکروں کی اس سال ستمبر میں لبنان میں آزاد ماہرین پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مجوزہ سیاسی منصوبے سے قبل یہ تجویز پیش کی تھی۔

سابق وزیر خارجہ اور ایف پی ایم کے لیڈر جبران باسیل نے بھی کہا ہے کہ سعد الحریری نے جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے آزاد ماہرین پر مشتمل حکومت کی تشکیل کے لیے تجویز کو خود ہی مسترد کردیا ہے۔اسی لیے ان کی جماعت نے ان کی نامزدگی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ سال 17 اکتوبر سے ارباب اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، پے در پے آنے والی حکومتوں کی نااہلی ،شہری خدمات کے پست معیار ،ڈوبتی قومی معیشت اور ہوشربا مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج مختلف دھڑوں نے سعدالحریری کی بہ طور وزیراعظم نامزدگی کو مسترد کر دیا ہے۔

انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو جاری رکھیں گے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت میں تحریک جاری رکھیں گے اور ایک نئے ، سول اور جمہوری سماجی معاہدے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرتے رہیں گے تاکہ قانون کی حکمرانی کی حامل ریاست قائم کی جاسکے۔