.

سیاسی مداخلت نے بیروت دھماکوں‌ کی تحقیقات کھٹائی میں ڈال دیں: ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم'ہیومن رائٹس واچ' نے رواں سال اگست میں لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پرہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات میں سیاسی مداخلت رکاوٹ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ بیروت بندرگاہ کو دو ماہ گذر جانے کے باوجود آج تک ان کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی اور نہ ہی مقامی سطح پرکوئی غیر جانب دار اور قابل اعتماد تحقیقی کمیشن مقرر کیا جاسکا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیروت بندرگاہ کے دھماکوں کی تحقیقات کی راہ میں سیاسی مداخلت ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے بیروت دھماکوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو بیروت بندرگاہ کے دھماکوں کی شفاف تحقیقات کرکے ان کے اصل اسباب کا پتا چلانا چاہیے کیونکہ یہ صرف لبنان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک انسانی المیہ تھا۔

انسانی حقوق گروپ نے لبنان کی مدد کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی گروپ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بیروت دھماکوں کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کےقیام کو قبول کرنے کے لیے دبائو ڈالے۔

خیال رہے کہ لبنان سپورٹ گروپ کا اجلاس آئندہ ہفتے نیویارک میں ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ چار اگست 2020ء کو بیروت بندرگاہ کے پر المونیم نائٹریٹ کےایک گودام میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔ 3 ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے تقریبا آدھا شہر تباہ ہو گیا تھا۔

لبنان میں ہیومن رائٹس واچ کی مندوبہ آیہ مجذوب نے ایک بیان میں کہا کہ بیروت بندرگاہ کے المناک حادثات کے بعد ہرایک کی زندگی الٹ گئی ہے۔ دھماکوں سے آدھا شہر تباہ ہوگیا۔ اس لیے اس واقعے کی عالمی سطح پر تحقیقات ضروری ہیں۔